برطانوی ویزہ: پاکستانی امتیازی سلوک کا شکار

Image caption پاکستان برطانوی ویزے کے حصول کی درخواستوں کی تعداد کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آتا ہے۔

چیف انسپکٹر جان وائن کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ برطانوی بارڈر ایجنسی پاکستان کے خلاف ویزے کے حصول کے سلسلے میں غیر قانونی طور پر امتیازی سلوک کر رہی ہو۔

انڈیپنڈنٹ چیف انسپکٹر کا کہنا ہے کہ پاکستان سے برطانوی ویزے کا حصول بحرین، ابوظہبی اور دبئی کی نسبت مشکل ہے۔

حکومت نے سن دو ہزار آٹھ میں جان وائن کو یوکے بارڈر ایجنسی کے کام کی نگرانی کے لیے چیف انسپکٹر مقرر کیا تھا اور ان کے عہدے کا سب سے بڑا مقصد ویزہ فراڈ کے کیسوں کی نشاندہی کرنا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تعینات ویزہ افسران نے درخواست دہندگان سے معمول سے زیادہ دستاویزات طلب کیں اور ان درخواستوں پر فیصلے صادر کیے ان میں بھی کوئی مطابقت نہیں تھی۔

پاکستان برطانوی ویزے کے حصول کی درخواستوں کی تعداد کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آتا ہے۔

چیف انسپکٹر نے اپنی رپورٹ میں پاکستان میں ویزہ سیکشن کی کارکردگی پر تشویش اور عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ سینیئر مینیجروں نے مسترد شدہ ویزہ درخواستوں کے خلاف اپیلوں پر عدم توجہی کا مظاہرہ کیا ہے اور درخواست دہندگان سے معمول سے زیادہ دستاویزات طلب کی ہیں اور اس سلسلے میں درخواست دہندگان کو کسی طرح کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

’یو کے بارڈر ایجنسی نا صرف پاکستان درخواست دہندگان کے سلسلے میں اپنے کام کا شفاف رکھنے میں ناکام رہی ہے بلکہ ہو سکتا ہے اس نے پاکستان درخواست دہندگان سے خلیج تعاون کونسل سے تعلق رکھنے والے درخواست دہندگان کے مقابلے میں امتیازی سلوک بھی روا رکھا ہو۔ خلیج تعاون کونسل میں ابوظہبی، دبئی اور بحرین شامل ہیں۔

’میرے خیال میں یوکے بارڈر ایجنسی کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اپنے فرائض ریس ریلیشنز ایکٹ 1976 کے مطابق ادا کر رہی ہے۔‘

پاکستان میں برطانوی ویزہ آپریشن میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں جس کی بڑے وجہ سکیورٹی صورتِِ حال میں ابتری کو قرار دیا جاتا ہے۔

برطانیہ میں امیگریشن کے وزیر ڈیمیئن گرین کا کہنا کہ ویزے کے حصول کے سلسلے میں سخت اقدامات کا مقصد صحیح درخواست دہندگان کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ویزہ فراڈ کو روکنا ہے۔

’اسی لیے ہم پاکستانی حکومت کے ساتھ قریبی رابطے سے کام کررہے ہیں تاکہ ویزہ فراڈ کو روکا جا سکے اور اسی لیے ہم فیصلہ سازی کے سلسلے میں ان ملکوں سے برطانوی ویزے کے اجراء میں زیادہ چھان بین کر رہے ہیں جہاں تاریخی طور پر ویزہ فراڈ کے کیس زیادہ پائے جاتے ہیں۔‘

مسٹر ڈیمیئن گرین کا کہنا ہے کہ مئی میں مسٹر جان وائن کی انسپکشن مکمل ہونے کے بعد متعدد اقدامات کیے گئے اور اب پچانوے فیصد ویزہ درخواستوں پر فیصلہ دو ہفتے کے اندر کر دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں