قنتاس ایئرلائن، پروازیں فوری معطل

Image caption مسافروں کے مطابق جہاز کا کپتان ڈیڑھ گھنٹہ پہلے فضا میں چکر لگاتا رہا تاکہ ہنگامی لینڈنگ سے قبل جہاز میں ایندھن کی مقدار کم ہوجائے

آسٹریلیا کی ایئرلائن قنتاس نے اپنے ایک سپر جمبو کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد اے 380 ایئربس کے بیڑے کی مزید پروازوں کی فوری طور پر ممانعت کردی ہے۔

قنتاس کی پرواز کیو ایف 32 سنگاپور سے سڈنی کے لیے روانہ ہوئی تھی لیکن پرواز کے کچھ ہی دیر بعد اس کے انجن کو خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔اس پرواز پر سوار ایک مسافر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس جہاز کا انجن ’ایک زوردار آواز کے ساتھ پھٹ گیا‘ اور طیارہ ہلنے لگا۔

انڈونیشیا میں بتام کے جزیرے میں ایسے ٹکڑے بھی ملے ہیں جن کا جہاز کے ملبے پر گمان ہوتا ہے۔

قنتاس نے کہا ہے کہ اس جہاز پر چار سو تینتیس مسافر اور عملے کے چھبیس ارکان سوار تھے اور سنگار پور سے سڈنی روانہ ہونے کے کچھ ہی دیر بعد گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح دو بجے کے قریب مغربی انڈونیشیا میں اس جہاز کے انجن کو کچھ ’مسائل درپیش ہوئے‘

ایک نیوز کانفرنس میں قنتاس کے چیف ایگزیکٹو ایلن جوائس نے کہا ’یہ انجن کی اہم ناکامی تھی‘۔انھوں نے کہا: ’ہم مسافروں کی حفاظت اور عمومی تحفظ کے معیارات کے بارے میں ناقابلِ یقین حد تک سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اور جہاں تک مسافروں کی حفاظت کا تعلق ہے ہم کسی بھی قسم کا خطرہ مول نہیں لیں گے اور احتیاط برتتے ہوئے ہم نے اے 380 جہاز کی پروازیں اس وقت تک کے لیے معطل کر دی ہیں جب تک ہمیں جہاز کے انجن میں پڑنے والے نقص کی وجوہات کی سمجھ نہیں آ جاتی۔‘

قنتاس کی پرواز کے انجن میں خرابی کے نتیجے میں کسی بھی مسافر کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں۔

البتہ جب جہاز میں خرابی ہوئی تو اس میں سے دھواں نکلنا شروع ہوگیا۔جہاز کا انجن سیاہ ہوگیا اور اس کاعقبی ڈھکنا علیحدہ ہو کر کہیں گر گیا۔

Image caption قنتاس کی پرواز کے انجن میں خرابی کے نتیجے میں کسی بھی مسافر کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں

جہاز میں سوار ایک مسافر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب جہاز کے انجن میں خرابی کا واقعہ پیش آیا تو ’آواز کے سبب میں نے سمجھا کہ شاید سامان کے خانے سے کچھ نیچے گرا ہے لیکن پھر جہاز نے زور زور سے ہلنا شروع کر دیا۔ میں اکثر سفر میں رہتا ہوں لیکن اس واقعے کے بعد میں ڈر سے گیا ہوں۔‘

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک عینی شاہد نے جہاز کے انجن کو ’تھوڑی سے آگ لگتے دیکھی‘۔مسافروں کے مطابق جہاز کا کپتان ڈیڑھ گھنٹہ پہلے فضا میں چکر لگاتا رہا تاکہ ہنگامی لینڈنگ سے قبل جہاز میں ایندھن کی مقدار کم ہوجائے۔

اسی بارے میں