امریکہ: معیشت کے لیے چھ سو ارب ڈالر

Image caption اگلے سال جون کے اختتام تک ماہانہ پچہتر ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کئی معاشی ماہرین کے اندازوں سے زیادہ ہے

امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے ملکی معیشت میں چھ سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مرکزی بینک نے یہ فیصلہ سست رفتار معاشی بحالی کو سہارا دینے کے لیے کیا ہے۔

دریں اثنا امریکہ کے مرکزی بینک کے فیصلے کے بعد ایشیا میں بازارِ حصص میں تیزی آئی ہے۔

مرکزی بینک کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ روزگار اور پیداوار میں بہتری کی رفتار سست رہے گی۔گھریلو اخراجات آہستہ آہستہ بڑھ رہے ہیں لیکن بہت زیادہ بے روزگاری، آمدن میں معتدل اضافے، سخت کریڈٹ اور ہاؤسنگ کی کم دولت کی وجہ سے جکڑ میں رہیں گے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’ حاصل ہونے معلومات کی روشنی میں سکیورٹیز کی خریداری اور اثاثوں کی مجموعی خریداری کے پروگرام کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔‘

واضح رہے کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب ایک دن پہلے صدر اوباما کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان میں اکثریت سے محروم ہو گئی ہے۔

اگلے سال جون کے اختتام تک ماہانہ پچہتر ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کئی معاشی ماہرین کے اندازوں سے زیادہ ہے۔

جولائی اور ستمبر کے دوران امریکی معیشت نے دو فیصد سالانہ کے حساب سے ترقی کی ہے جو کہ بے روزگاری کم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ’ کیو ای‘ یا بینکوں میں رقوم کےذخائر کو بڑھا کر ہی امریکی معیشت کو واپس پٹری پر لانے کی آخری کوشش ثابت ہو سکتی ہے۔

اسی وجہ سے بازار حصص میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔

شرح سود پہلے ہی صفر کے قریب ہونے کا مطلب فیڈرل ریزرو ڈیمانڈ میں اضافے کے لیے اس کو مزید کم نہیں کرے گا، بیشتر مرکزی بینکوں کا ترقی کی شرح میں اضافے کا یہ سب سے روایتی طریقہ ہے۔

بجائے اس کے مرکزی بینک نے بینکوں میں رقوم کے ذخائر کو بڑھانے کا ایک نیا دور شروع کیا ہے، جس کے تحت لمبی مدت کے حکومت بانڈ خریدنے کے لیے پیسے پیدا کیے جائیں گے۔

اس سے پہلے مرکزی بینک نے معیشت کی بہتری کے لیے ایک کھرب پچہتر ارب ڈالر کا اعلان کیا تھا۔

موڈی کےچیف اکانومسٹ مارک زانڈی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی آخری حد یہ ہے کہ اس سے معاشی ترقی میں بہتری آئی گی، لیکن اس کی وجہ سے ہمارے مسائل حل نہیں ہونگے۔

انھوں نے کہا کہ ’ مرکزی بینک کے اقدامات کے باوجود ہم اگلے چھ ماہ سے ایک سال تک معیشت کے بارے میں غیر مطمئن رہیں گے۔‘

امریکہ کے مرکزی بینک کے فیصلے کے بعد ایشیا کے بازار حصص میں تیزی آئی ہے۔ جاپان کے مرکزی انڈکس میں ایک موقع پر دو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا سنگاپور، تائیوان، ملائیشیا اور ہانگ کانگ کے بازار حصص میں تیزی آئی ہے۔

اسی بارے میں