برما:بیس برس میں پہلے انتخابات

برما میں انتخابی مہم

برما میں بیس برس میں پہلے قومی انتخابات ہو رہے ہیں۔ ملک کے فوجی حکمران ان انتخابات کو غیر فوجی اور جمہوری نظام کی طرف واپسی کے عمل کا حصہ قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقدین ان کو ’جعلی‘ انتخابات کہہ رہے ہیں۔

برما میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت نے، جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ سیاستدان آنگ سان سوچی، کر رہی ہیں انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ انتخابات سے فوجی حکومت کی زیادتیوں سے پردہ اٹھے گا۔

انتخابات میں فوجی حکومت کے حامی امیدواروں کے کامیاب ہونے کی امید ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ پر لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی تلقین اور بائیکاٹ سے باز رہنے کا کہہ رہے ہیں۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ فوجکے حامی سیاستدانوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ ان کے حق میں ووٹ نہ ڈالنے کی صورت میں ان کی نوکریوں کو خطرہ ہے۔

آنگ سان سوچی کی جماعت ’نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی‘ نے انیس سو نوے میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن انہیں اقتدار نہیں سنبھالنے دیا گیا۔ اس بار جماعت نے اپنے سربراہ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

غیر ملکی صحافیوں اور مبصرین کو انتخابات کے لیے برما جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اسی بارے میں