برما انتخاب میں کامیابی کے دعوئے

برما میں بیس برس بعد ہونے والے عام انتخابات میں فوج کی حمایت یافتہ ایک بڑی سیاسی جماعت نے دعوی کیا ہے کہ اُس نے اسی فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیے ہیں۔

یونین سلیڈیرٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات کے نتائج سے خوش ہیں۔

حزب اختلاف جمہوریت پسند جماعت این ایل ڈی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں نے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلیوں اور فراڈ کا الزام لگایا ہے۔

دریں اثناء کیرن باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان انتخابات کی وجہ سے لڑائی شروع ہو گئی ہے جس کی بنا پر بیس ہزار سے زیادہ برمی باشندے ملک چھوڑ کر تھائی لینڈ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔’

مایاوادی کے قصبے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج نے باغیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے جنھوں نے اتوار کو احتجاج کرتے ہوئے سرکاری عمارتوں پر ہلہ بول دیا تھا۔

تھائی حکام نے کہا ہے کہ مایاوادی کا علاقے بالکل محفوظ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں برمی باشندے واپس گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں برمی باشندے تھائی سرحد کے قریب ہنگامی طور پر بنائے گئے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

برمی فوج اطلاعات کے مطابق باغیوں سے تھری پگاوڈا پاس کے علاقے کو خالی کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

ڈیموکریٹک کیرن بدہسٹ آرمی نے مایاوادی میں ایک پولیس سٹیشن اور ایک پولنگ بوتھ پر قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ فرقہ وارانہ گروہوں کے مسلح دستوں کو مرکزی فوج میں شامل کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ کب سرکاری طور پر انتخابی نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

.