برما: فوج کی حمایت یافتہ جماعت کی جیت

برما انتخابات
Image caption یہ برما میں گزشتہ بیس برسوں میں ہونے والے پہلے انتخابات ہیں۔

برما میں فوج کی حمایت والی سیاسی جماعت یو ایس ڈی پی کا کہنا ہے کہ اسے حالیہ انتخابات میں اسی فیصد کے قریب ووٹ ملے ہیں۔

یہ برما میں گزشتہ بیس برسوں میں ہونے والے پہلے انتخابات ہیں۔

ملک کی حزب اختلاف کی اہم جمہوریت نواز جماعت این ایل ڈی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جب کہ حزب اختلاف کے دوسرے گروپوں نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔

چین نے ان انتخابات کے انعقاد پر فوجی جنرلوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک منتخب حکومت کی جانب پیش رفت قرار دیا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہونگ لی نے کہا ہے کہ برما میں ایک منتخب حکومت کے لیے سات مرحلوں پر مشتمل نقشہ راہ پر عمل درآمد کے سلسلے میں یہ انتخابات ایک اہم اقدام ہے اس لیے چین ان کا خیر مقدم کرتا ہے۔

برما میں اس سے پہلے انیس سو نوے میں عام انتخابات ہوئے تھے جس میں آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن فوج نے انہیں اقتدار منتقل نہیں کیا تھا۔

مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات آزادانہ اور نہ ہی منصفانہ تھے۔

لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ تمام تر خرابیوں کے باوجود اگر حزب اختلاف کو اداروں کی فیصلہ سازی میں کسی حد تک شامل کر لیا جائے تو یہ انتخابات جمہوری عمل کے آغاز کا سبب بن سکتے ہیں

اسی بارے میں