’چین کےخلاف مقدمہ کروں گا‘

وکیل مو شیاوبِنگ
Image caption وکیل کو بیجنگ ائرپورٹ پر ملک سے باہر جانے سے روک دیا گیا

امن کے لیے نوبل انعام جیتنے والےچین میں زیر حراست کارکن کے وکیل نے کہا ہے کہ ان کو چین سے باہر جانے سے روکا گیا ہے اور وہ اس سلسلے میں چین کے خلاف مقدمہ کریں گے۔

امن کارکن لیو ژیاوبو کے وکیل مو شیاوپِنگ نے بتایا ہے کہ وہ برطانیہ میں منعقدہ وکلاء کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے چین سے لندن روانہ ہو رہے تھے کہ انہیں حکام نے بیجنگ کے ہوائی اڈے پر روک دیا۔

مو شیاوبِنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو ایک الگ کمرے میں لے جایا گیا جہاں حکام نے انہیں بتایا کہ ان کا چین سے باہر جانے سے ’ملک کی سلامتی کو خطرہ ہے۔‘

انہوں نے متعقلہ پولیس اہلکاروں سے جب اس بارے میں نوٹس کی تحریری کاپی مانگی تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کے پاس ایسی کوئی دستاویز نہیں تاہم ان کو آرڈر تھا کہ وکیل کو ملک سے روانہ نہ ہونے دیا جائے۔

مو شیپِنگ نے کہا کہ حکام کو شک تھا کہ وہ لیو کے لیے نوبل انعام لینے کے غرض سے ملک سے باہر روانہ ہو رہے تھے۔

لیو ژیاوبو کو تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر گیارہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے سیاسی اصلاحات کے لیے ایک پیٹیشن شروع کی تھی جس پر ہزاروں افراد نے دستخط کیے۔ ان کو نوبل انعام دینے کے فیصلے پر چینی حکومت کا رد عمل سخت تھا اور انہوں نے اس فیصلہ کو ’جرم کی حمایت کرنے کا مترادف قرار دیا۔‘

لیو ژیاوبو کے وکیل کہتے ہیں کہ ائرپورٹ پر حکام نے ان سے نوبل انعام کے بارے میں بات تو نہیں کی لیکن ان کو شک ہے کہ ان کو روکنے کی یہی وجہ تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ دنوں میں کئی افردا کو ملک سے باہر جانے سے اسی لیے روکا گیا ہے کہ وہ لیو زیوبو کے لیے نوبل انعام نہ حاصل کر سکیں۔

وکیل مو شیاوپِنگ کہتے ہیں کہ اب وہ چین کے قانون کے مطابق حکومت کے خلاف مقدمہ دائرکریں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ چین کا دورہ کرنے والے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھی لیو کے ساتھ چینی حکومت کے سلوک کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں