امریکی حمایت کیوں؟

Image caption یہ ضروری نہیں کہ امریکہ کی توثیق بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت دلانے کا سبب بنے

امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے بھارت کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن بننے کی حمایت کے بعد اقوام متحدہ میں اصلاحات کا معاملہ پھر سے ایجنڈے پر آ گیا ہے۔ مگر اس زبانی کلامی حمایت کے علاوہ دیکھنا یہ ہوگا کہ سلامتی کونسل میں توسیع کا حقیقی امکان کتنا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جونا تھن مارکس اپنے تجزیے میں لکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کے لیے بھارت کی حمایت کے متعلق صدر براک اوباما نے جو بات کی ہے اصل میں ان کے بھارتی میزبان یہی کچھ سننا چاہتے تھے۔

واشنگٹن بھارت کو عالمی سیاست میں قابل ذکر کھلاڑی بنانے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور اسے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت دلوانا اپنا صف اول کا ساتھی بنانے کے برابر ہے۔

لیکن یہ ضروری نہیں کہ امریکہ کی یہ توثیق بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت دلانے کا سبب بنے۔

یہی ایک الٹی بات لگتی ہے۔ اس بات پر شاید تمام لوگ متفق ہوں کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین جن میں برطانیہ، امریکہ، فرانس، چین اور روس شامل ہیں انہیں ویٹو پاور انیس سو چالیس کی دبائی کی سیاست کی وجہ سے ملی کیونکہ یہ سب دوسری جنگ عظیم کے فاتح تھے۔

لیکن اب دنیا تبدیل ہوچکی ہے۔ بھارت، برازیل اور جاپان جیسی نئی قوتیں ابھر رہی ہیں۔ لاطینی امریکہ اور مشرق وسطیٰ جیسے اہم خطوں سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ سلامتی کونسل میں انہیں بھی نمائندگی ملنی چاہیے۔

لہٰذا سیکورٹی کونسل کی ممکنہ رکنیت کی قطار لمبی ہوتی جا رہی ہے اور مسئلہ یہیں اٹکا ہوا ہے۔ سلامتی کونسل میں توسیع کو تو اچھا سمجھا جا رہا ہے اور ایک خیال یہ بھی ہے کہ پانچ مزید مستقل اراکین کو اس میں شامل کیا جائے۔ مگر سوال وہی ہے کہ یہ اراکین کون ہوں؟

اگر جنوبی افریقہ ہو تو نائیجیریا کیوں نہیں؟۔۔ برازیل ہو تو میکسیکو کیوں نہیں؟۔۔ اور اگر یورپ جرمنی کے لیے اپنی تیسری نشست حاصل کرے تو اٹلی کے لیے کیوں نہیں۔

سلامتی کونسل میں اصلاحات کے مطالبے تو جاری رہیں گے لیکن بہت جلد کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہ رکھی جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوری سنہ دو ہزار گیارہ میں بھارت، جنوبی افریقہ اور جرمنی برازیل اور نائیجیریا کے ساتھ دو سال کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوں گے جس سے یہ معلوم ہوجائے گا کہ آنے والے وقتوں میں سلامتی کونسل کیسے کام کرتی ہے۔

اسی بارے میں