’افغان حکمتِ عملی اتنی کامیاب نہیں‘

برطانیہ کے دفترِ خارجہ کے ایک سینیر اہلکار کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار پندرہ سے قبل افغانستان سے برطانوی فوج واپس بلانا غلط ہو گا۔

یہ بات سر شیررڈ کوپر کولز، جو افغانستان میں برطانیہ کے سفیر بھی رہ چکے ہیں، نے برطانوی پارلیمان کی امورِ خارجہ کی کمیٹی کے سامنے ایک بیان میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لیے برطانیہ کو پچاس سالہ امدادی حکمتِ عملی بنانے کی ضرورت ہے جس میں سیاسی ڈھانچے کے قیام پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکمتِ عملی اتنی کامیاب نہیں ہے جیسا اس کے بارے میں تاثر دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ، پانچ نہیں، دس نہیں بلکہ پچاس سال کے لیے افغانستان میں رہنے کے لیے کمر کس لے۔

سر شیررڈ افغانستان میں برطانیہ کے سفیر رہے اور پھر دفترِ خارجہ کی اس شاخ کے سربراہ رہے جو افغانستان اور پاکستان کے امور کی نگراں ہے۔

تین سال کی اس ذمہ داری کے دوران انہوں پہلی مرتبہ امورِ خارجہ کی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے افغان پالیسی پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے بارے میں بین الاقوامی حکمتِ عملی کا جھکاؤ فوجی کامیابیوں پر ہے نہ کہ وہاں پر ایک اچھی حکومت کے قیام پر۔ ’یہی پہلو، ان کے خیال میں غلط اور خطرناک ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ہلمند سے اگر کوئی فوجی اہلکار سیاسی قائدین کو ملنے والی ’سب اچھا ہے‘ کی خبروں کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں تو ان پر دشمن کی طاقت سے مرعوب ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اس لیے سچ کبھی بتایا ہی نہیں گیا۔

سر شیررڈ نے کہا کہ ہیلمند کے آپریشن مشترک میں بین الاقوامی افواج کو کامیابیاں تو ملی ہیں لیکن سیاسی حکمتِ عملی کی عدم موجودگی کی وجہ سے مقامی لوگ، افغان حکومت اور مافیا پر طالبان کو ترجیح دے رہے ہیں۔

’طالبان تشدد کے حامی ہیں، بہت برے ہیں لیکن جنوبی افغانستان کے لیے، پشتونوں کے لیے، طالبان باقیوں کی نسبت بہتر ہیں۔

اسی بارے میں