نوری المالکی دوبارہ وزیر اعظم منتخب

عراق کے نومنتخب صدر جلال طالبانی نے شیعہ رہنما نوری المالکی کو دوبارہ ملک کا وزیرِ اعظم منتخب کر لیا ہے۔

یہ اس وقت ممکن ہوا جب عراق میں آٹھ ماہ قبل ہونے والے عام انتخابات کے بعد طویل سیاسی ڈیڈ لاک ختم ہو گیا۔

شیعہ وزیرِاعظم نوری المالکی اور ان کے حریف سابق سنی وزیراعظم ایاد علاوی کے اتحادوں کے درمیان حکومت کے اشتراک کا فارمولا بدھ کی رات طے پایا جس کے بعد گزشتہ روز کے پارلیمانی اجلاس میں عراق کا آٹھ ماہ طویل ڈیڈ لاک ختم ہوا۔

خفیہ رائے شماری کے ذریعے تمام منتخب اراکین نے ایاد علاوی کے اتحاد العراقیہ کے رکن اوسامہ نجفی کو اگلی حکومت کے لیے پارلیمنٹ کا سپیکر منتخب کیا۔ اگلے مرحلے میں بدھ کی ڈیل کے مطابق موجودہ صدر جلال طالبانی کو ایک بار پھر صدر منتخب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے لیے رائے شماری قواعد کا حصہ تھی۔

لیکن اس رائے شماری سے پہلے ہی العراقیہ اتحاد کے سربراہ ایاد علاوی، ان کے ساتھی اور نو منتخب سپیکر اوسامہ نجفی سمیت، اتحاد کے ایک تہائی اراکین احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کر گئے۔

نامہ نگاروں کے مطابق انہیں صدر طالبانی کے انتخاب پر اعتراض نہیں تھا بلکہ العراقیہ کا کہنا ہے کہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ صدر کے انتخاب سے پہلے پارلیمنٹ ایک قرارداد پاس کرے گی جس میں العراقیہ سے منسلک سنی اراکینِ اسمبلی پر سابق صدر صدام کی بعث پارٹی کے حوالے سے لگائے گئے الزامات واپس لیے جائیں گے۔

لیکن ایسا نہیں ہوا جس کے احتجاج میں العراقیہ سنی اتحاد کے اراکین واک آؤٹ کر گئے۔ ان کے واک آؤٹ کے باوجود پارلیمانی اراکین نے رائے شماری جاری رکھی اور جلال طالبانی کو ایک بار پھر عراق کا صدر منتخب کر لیا گیا۔

اس انتخاب کے بعد سنی اور شیعہ اتحادوں کے درمیان طے پائے گئے فارمولے کے تحت، شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کو ہی نئی حکومت کے لیے دوبارہ وزیرِاعظم منتخب کیا گیا۔

نئی حکومت میں سابق وزیراعظم ایاد علاوی قومی حکمتِ عملی کے لیے بننے والے نئے ادارے کے سربراہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ وزارتِ خارجہ بھی العراقیہ اتحاد کے پاس ہو گی۔

وزیرِاعظم نوری المالکی، آئندہ ایک ماہ کے دوران اپنی کابینہ تشکیل دیں گے اور ناراض ہونے والے سیاسی اتحاد العراقیہ کو منانے کی کوشش بھی کریں گے۔

اسی بارے میں