روس کے ’ڈبل ایجنٹ‘ کے نام کا انکشاف

روسی  ایجنٹس کی سکیچ( فائل فوٹو)
Image caption امریکہ نے جون میں دس روسی ایجنٹس کو گرفتار کیا تھا

روس کے ایک اخبار نے اس روسی انٹیلیجنس ایجنٹ کے نام کا انکشاف کیا ہے جس نے اس کے بقول روسی جاسوسوں کے نیٹ ورک کا پتہ لگانے میں امریکہ کی مدد کی تھی۔

کومارسنت نامی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ روسی انٹیلیجنس ایجنسی کے کرنل شیربیقا‎ؤ امریکہ کے لیے کام کر رہے تھے۔

گزشتہ جون میں امریکہ سے دس روسی ایجنٹوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں واپس روس بھیج دیا گیا تھا۔

گرفتار ہونے والے مبینہ جاسوسوں میں بعض سنہ انیس سو نوے سے امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان افراد کو پالیسی سازی کے عمل میں حصہ لینے کے لیے روس کی خفیہ ایجنسی نے تربیت فراہم کی تھی۔ حکام کا کہنا تھا کہ مبینہ جاسوسوں کو کہا گیا تھا کہ امریکی حکام کے دوست بن کر رہیں اور مختلف ذرائع سے روسی حکومت کے لوگوں کو معلومات فراہم کریں۔

گرفتار کیے جانے والوں میں سے نو پر منی لانڈرنگ کا کیس بھی چلایا جائے گا۔ جس کے تحت انھیں بیس سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔

ان دس ملزموں پر ایک غیر ملکی حکومت کے ایجنٹس کے طور پر غیرقانونی کام کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ اگرچہ یہ الزام جاسوسی سے کم تر نوعیت کا ہے لیکن اس پر بھی پانچ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد روس اور امریکہ کے درمیان جاسوسی سے متعلق ہونے والا یہ سب سے بڑا سکینڈل تھا۔

اخبار میں کہا گیا ہے کہ کرنل شیربیقا‎ؤ روس کی خفیہ ایجنسی میں ایک سینئیر اہلکار تھے اور انکا کام امریکہ میں جاسوسوں کو مدد فراہم کرنا تھا۔

لیکن ایک وقت ایسا آیا جب کرنل نے امریکہ کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔

خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے اخبار نے لکھا ہے کہ کرنل جون کے مہینے کے روسی صدر دیمتری میدادیو کے امریکہ دورے کے تین دن پہلے امریکہ چلے گئے۔

واضح رہے کہ روسی صدر کے اس دورے کے بعد ہی روسی جاسوسوں کو گرفتار کيا گیا تھا۔

اس سکینڈل سے پہلے کرنل کو پروموشن کی پیش کش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا تھا تاکہ انہیں جھوٹ کا پتہ لگانے والا لائی ڈٹیکٹر ٹیسٹ نہ دینا پڑ جائے۔

اخبار کے مطابق کرنل کے افسران نے اس بات کو نظر انداز کردیا کہ کرنل ‎ شیربیقا‎ؤ کی بیٹی کئی برسوں سے امریکہ میں قیام پذیر ہے۔

روس کی انٹیلیجنس ایجنسی کے ترجمان نے اخبار کی رپورٹ پر اپنا بیان دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اسی بارے میں