امریکی، افغان اور مفت ریڈیو سیٹ

امریکہ کی مالی معاونت سے چلنے والا ریڈیو سٹیشن ریڈیو فری یورپ یا ریڈیو لبرٹی افغانستان میں طالبان کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے ریڈیو سیٹ افغانستان کے دور افتادہ علاقوں میں بانٹ رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری نے امریکی فوج کے ساتھ سفر کیا جس میں امریکی فوج نےیہ ریڈیو سیٹ بانٹےآ یہ ریڈیو سیٹ لوگوں کو بہت پسند آئے۔ لیکن کیا لوگ طالبان کے پیغامات سننا چھوڑ دیں گے؟

ہمارے جہاز کا سفر کابل سے علی الصبح تھا۔ لیکن مجھ سمیت چند صحافی جو میرے ساتھ تھے ان کو بھی نہیں معلوم تھا کہ منزل کیا ہے۔

ریڈیو لبرٹی اور امریکی فوج نے سفر کی تفصیلات کو راز رکھا تھا۔

ہمارے ہیلی کاپٹر نے جب اڑان بھری تو پائلٹ نے اعلان کیا کہ ہم جلال آباد جا رہے ہیں جہاں امریکی فوج مفت ریڈیو سیٹ تقسیم کر رہی ہے۔

تقریباً پندرہ ہزار ریڈیو سیٹ ابھی تک مفت تقسیم کیے جا چکے ہیں اور ابھی بھی ہزاروں مذید تقسیم کرنے ہیں۔

ان ریڈیو سیٹس میں ٹارچ بھی ہے جو کہ دیہی علاقوں میں نہایت کارآمد ثابت ہو گی۔

حکام کو امید ہے کہ ان ریڈیو سیٹ کی تقسیم سے، ان کے بقول، ملا ریڈیو سے نشر کیے جانے والے طالبان کے پیغامات کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔

امریکی معاونت سے تقسیم کیے جانے والے اس اے ایم اور ایف ایم سیٹ سے دیگر نشریات بھی سنی جا سکتی ہیں جن میں بی بی سی، وائس آف امریکہ، کمرشل سٹیشنز۔ اور کئی بار ملا ریڈیو بھی جہاں حکام اس نشریات کو جام نہیں کر سکے۔

ریڈیو لبرٹی کے اکبر ایازی نے اس بات کی تردید کی کہ طالبان پروپیگنڈہ بند کر کے امریکی پیغامات سنانے کی یہ کوشش ہے۔

’ملا ریڈیو لوگوں میں نفرت کے بیج بو رہا ہے۔ اس ریڈیو سے ہم ان لوگوں تک معلومات پہنچانا چاہتے ہیں اور انٹرٹینمنٹ بھی تا کہ وہ لطف اندوز ہو سکیں اور خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ، اخبارات اور ٹی وی نہیں ہیں۔‘

انہوں نے مذید کہا ’ہمارا ریڈیو سٹیشن افغانستان میں سب سے زیادہ سنا جاتا ہے۔ اور یہ پروپیگنڈہ نہیں ہے۔‘

جلال آباد پہنچنے پر ہمیں بس سٹینڈ پر لے جایا گیا جہاں درجنوں افغان جمع تھے۔ جیسے ہی ریڈیو سیٹ کی تقسیم شروع ہوئی وہ لوگ جو پہلے نظم و ضبط کا مظاہرہ کر رہے تھے ریڈیو کے حصول کے لیے ٹوٹ پڑے۔

چند ہی منٹوں میں ساٹھ ریڈیو سیٹ یقسیم ہو چکے تھے اور امریکی فوج نے چار سو مذید سیٹ تقسیم کے لیے پولیس کے حوالے کیے۔

اکبر محمد نامی دکاندار نے بتایا کہ وہ ریڈیو لبرٹی اور دیگر نشر ہونے والے چینل سنتے ہیں۔

’میں ریڈیو صرف خبریں اور موسیقی سننے کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ کبھی میں ریڈیو لبرٹی سنتا ہوں تو کبھی وائس آف امریکہ اور کبھی بی بی سی۔‘

ننگرہار کے کاما ضلع سے تعلق رکھنے والے محمد عثمان نے بتایا ’میں نے ریڈیو موسیقی سننے کے لیے لیا تھا۔ یہ ریڈیو سیٹ اچھا ہے کیونکہ اس کے لیے بیٹری خریدنی نہیں پڑے گی۔‘

اسی بارے میں