اغوا شدہ افغان سفیر کی رہائی

عبدالخالق فراحی
Image caption عبدالخالق فراحی کو 22 ستنبر 2008 میں پشاور کے حیات آبادٹاؤن سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا

افغانستان کے پاکستان کے لیے نامزد سفیر عبدالخالق فراحی کو کل رہا کر کے خوست میں افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ لیکن ان کی رہائی کی تصدیق نہ تو انہیں اغوا کرنے والے شدت پسندوں نے کی ہے اور نہ ہی افغان حکومت نے کچھ کہا ہے۔

مسٹر فراحی کو 22 ستمبر 2008 میں پشاور کے حیات آباد ٹاؤن سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ حیات آباد میں اپنے گھر جا رہے تھے۔ اس روز کچھ مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ان کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا تھا اور انہیں ایک گاڑی میں ڈال کر کسی نامعلوم مقام کی جانب لے گئے تھے۔

طالبان ذرائع کے مطابق مسٹر فلاحی کی رہائی سے متعلق مذاکرات ایک شدت پسند دھڑے اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گروپ نے مسٹر فراحی کی رہائی کے عوض کئی ماہ قبل حکومت کو اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھیجی تھی لیکن افغان حکومت نے شدت پسندوں کے یہ مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق شدت پسندوں نے اپنے کچھ قیدیوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ تاوان کی ایک بڑی رقم کا مطالبہ کیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ افغان حکومت کچھ قیدیوں کے ساتھ تھوڑی رقم دینے کے لیے بھی تیار تھی لیکن حکومت نے ان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا جو امریکی افواج کی قید میں ہیں۔

ایک طالبان کمانڈر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ افغان حکومت نے افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈروں کو کچھ اہم طالبان جنگجوؤں کو رہا کرنے کے لیے رضامند کرنے کی کوشش کی جو ان کی قید میں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں اس معاملے میں اس وقت پیش رفت ہوئی جب افغان حکومت نے کچھ اور طالبان جنگجوؤں کو رہا کرنے اور 289 ملین روپیے دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن مسٹر فراحی کی رہائی کہاں ہوئی اس بات پر طالبان کے اس دھڑے اور افغان حکومت کے درمیان اختلاف ہونے کے سبب ان کی رہائی میں تاخیر ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق طالبان چاہتے تھے کے ان کی رہائی افغانستان کے خوست علاقے میں ہو جبکہ حکومت کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان میں اور خاص طور پر پشاور میں رہا کیا جائے۔

اسی بارے میں