قزاقوں نے برطانوی جوڑے کو رہا کر دیا

Image caption مغوی جوڑے کو دو دن قبل ان کی رہائی کے بارے میں بتایا گیا

صومالی بحری قزاقوں نے اس برطانوی جوڑے کو رہا کر دیا ہے جسے انہوں نے تیرہ ماہ قبل یرغمال بنایا تھا۔

ساٹھ سالہ پال اور چھپن سالہ ریچل چینڈلر کو جزائز سیشلز کے قریب سے اکتوبر سنہ 2009 میں اغوا کیا گیا تھا۔

قزاقوں کے چنگل سے رہائی پانے کے بعد یہ جوڑا پہلے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو پہنچا جہاں سے انہیں کینیا پہنچا دیا گیا ہے۔

رہائی کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پال چینڈلر نے کہا کہ ’ہم خیریت سے ہیں۔ ہم کمزور ہوگئے ہیں اور ہماری ہڈیاں نکل آئی ہیں تاہم ہم ٹھیک ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں دو دن قبل بتایا گیا تھا کہ انہیں رہا کیا جا رہا ہے۔ اس سوال پر کہ کیا انہیں قزاقوں کی حراست میں رہتے ہوئے کبھی جان کا خطرہ محسوس ہوا، پال چینڈلر کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گے لیکن اغوا کے بعد ہمیں براہِ راست ِخطرے کا احساس نہیں دلوایا گیا‘۔

سرکاری طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے کہ اس جوڑے کی رہائی تاوان کی ادائیگی کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے یا نہیں تاہم بی بی سی کے فرینک گارڈنر کے مطابق دس لاکھ پونڈ کے قریب رقم بطور تاوان دی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جون میں بھی چار لاکھ تیس ہزار پونڈ اغوا کاروں کو دیے گئے تھے لیکن انہوں نے اس وقت اس جوڑے کو رہا نہیں کیا تھا۔

اسی بارے میں