مقصد برما میں ایک پر امن انقلاب: سو چی

Image caption آنگ سان سوچی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی آزادی پر کوئی شرائط نہیں ہیں

برما کی جمہوریت پسند سیاست دان آنگ سان سوچی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کا مقصد برما میں ایک پر امن انقلاب ہے۔

اپنی پارٹی نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی کے دفتر میں بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ آخر کار برما میں جمہوریت آئے گی۔ لیکن انھیں یہ معلوم نہیں کہ اس میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ حکمران جنرلوں سے بات کرنے کے لیے کوئی بھی موقع ضائع نہیں کریں گی۔

بی بی سی کے ورلڈ افئیرز کے مدیر جون سمسن کا کہنا ہے کہ انٹرویو کے دوران نیشنل لیگ آف ڈیموکرسی کے دفتر کے دوسری جانب گلی میں سکیورٹی اہلکار موجود تھے لیکن انھوں نے اس ضمن میں کوئی مداخلت نہیں کی ہے۔

آنگ سان سوچی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان کی آزادی پر کوئی شرائط نہیں ہیں۔

اس سے پہلے بی بی سی کو ہی دیئے گئے ایک انٹرویو میں آنگ سان سوچی نے کہا تھا کہ وہ قومی مفاہمت کے فروغ کے لیے ہر گروہ سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنا اگلا قدم اٹھانے سے پہلے عوام کی سوچ سے اچھی طرح آگاہی حاصل کرنا چاہیں گی۔

اس سے پہلے ایک طویل نظر بندی کے بعد رہائی حاصل کرنے والی برما کی جمہوریت پسند سیاست دان نے رہائی کے بعد گزشتہ روز اپنے پہلے انٹرویو میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’میرے خیال میں ہمیں اپنے تمام اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے ہوں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنا ہوگی، ہم متفق ہوں یا اختلاف کریں اور اگر اختلاف ہو گا تو اس کی وجہ جاننا ہوگی اور اس وجہ کا حل نکالنا ہوگا‘۔

مستقبل میں اپنے کردار کے حوالے سے آنگ سان سو چی نے کہا کہ ’میں خود کو جمہوریت کا ایک کارکن سمجھتی ہوں۔ شاید مجھے زیادہ لوگ جانتے ہیں لیکن میں انہی میں سے ہوں جو جمہوریت کے لیے سرگرم ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ دوبارہ گرفتار ہونے یا نظر بند کیے جانے سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہیں گو کہ ان کو خدشہ ہے کہ یہ کسی وقت بھی ممکن ہے۔ آنگ سان سوچی نے کہا کہ زیر حراست ان کی حالت ان سیاسی قیدیوں سے حد درجے بہتر تھی جو کہ سرکاری قید خانوں میں پابند سلاسل ہیں۔

آنگ سان سوچی نے برما میں گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی نیشل لیگ آف ڈیموکریسی کا یہ فیصلہ بالکل درست ہے۔ ان انتخابات میں فوجی حکمرانوں کی حمایت یافتہ پارٹی کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی ان انتخابات میں بدعنوانیوں اور دھاندلیوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔

آنگ سان سوچی نے کہا کہ اپنی طویل حراست کے دوران انھوں نے اپنے آپ کو کبھی تنہا محسوس نہیں کیا۔ انھوں دنیا بھر کے عوام اور رہنماؤں کا ان کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ حراست کے دوران برما کے عوام اور دنیا بھر کے جمہوریت پسند عوام کی محبت ان کے ساتھ تھی۔

رہائی کے بعد انھوں نے اپنی پارٹی کے ہیڈ کواٹر کے باہر حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انھیں صبر کا دامن تھامے رکھنے کی تلقین کی تھی۔ پارٹی ہیڈ کواٹر کے باہر عوام کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ آنگ سان سوچی کی گاڑی جب ہیڈ کواٹر کے باہر پہنچی تو ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے سینکڑوں لوگوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا تھا۔

اسی بارے میں