سی آئی اے کاساتھ، یورپ پرالزام

سی آئی اے

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یورپی یونین پر تنقید کی ہے کہ اس نے سی آئی اے کی طرف سے دہشت گردی کے ملزمان کی یورپ میں مبینہ غیرقانونی حراست میں مدد فراہم کرنے والے ممالک کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یورپی حکومتوں سے ان ملزمان کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ پولینڈ اور دیگر ممالک پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے سی آئی اے کی ایماء پر خفیہ جیلیں بنائی تھیں۔

دہشت گردی کے ملزمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں بیرون ملک لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان میں سے کچھ لاپتہ ہو گئے۔

متعدد یورپی ممالک پر الزام لگایا کہ انہوں نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایماء پر خفیہ جیلیں بنائیں یا پھر انہوں نے سی آئی اے کی طرف سے ملزمان کی مختلف ممالک میں منتقلی کے دوران اپنے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی جازت دی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کو دہشت گردی کے ملزمان کو غیر قانونی حراست میں رکھنے میں یورپی ممالک کی طرف سے سی آئی کی مدد کے بارے میں ’بڑھتے ہوئے شواہد‘ کے بارے میں ’کھلے راز‘ کے نام سے ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔

ایمنسٹی نے کہا کہ یہ زیادتیاں یور میں ہوئی اور ’ہم اجازت نہیں دے سکتے یورپ بھی امریکہ کی طرح ایسا خطہ بن جائے جو کسی کے آگے جوابدہ نہ ہو۔‘

تنظیم نے کہا کہ کچھ ممالک نے تفتیش شروع کی ہے لیکن ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ ایمنسٹی نے اپنی تفتیش اور قیدیوں کے انٹرویو کی بنیاد پر کہا کہ آٹھ یورپی ممالک کسی نہ کسی طرح امریکی ادارے سی آئی اے کے ساتھ اس غلط کام میں شریک تھے۔

ایمنسٹی نے کہا کہ رومانیہ، پولینڈ اور لتھوینیا میں خفیہ جیلیں تھیں جب کہ جرمنی اور اٹلی نے ان قیدیوں کی منتقلی میں مدد فراہم کی۔ رومانیہ اور پولینڈ ان الزامات سے انکار کرتے ہیں لیکن وہاں اس معاملے پر تفتیش جاری ہے۔

اسی بارے میں