گوانتانامو کے سابق قیدیوں کے لیے معاوضے

Image caption بنیام محمد نے بھی برطانوی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے

برطانوی حکومت نے خلیج گوانتانامو کے حراستی مرکز میں قید رہنے والے کچھ افراد کو معاوضے ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی حکومت نے بظاہر یہ فیصلہ عدالتی مقدمے سے بچنے کے لیے کیا ہے جس کے دوران حساس نوعیت کی انٹیلیجنس معلومات منظر عام پر آ سکتی تھیں۔

یہ افراد ان درجن بھر سابق قیدیوں میں شامل ہیں جن سے برطانوی حکومت نے تصفیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانیہ کی وزیر انصاف کینتھ کلارک نے کہا ہے کہ ان افراد کے ساتھ معاملہ طے ہونے سے تشدد میں برطانیہ کے ملوث ہونے سے متعلق عدالتی انکوائری کے لیے راستہ کھل جائے گا۔

ان قیدیوں میں سے کم از کم چھ نے برطانوی انٹیلیجنس اہلکاروں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ان کے گوانتانامو پہنچنے سے قبل پاکستان اور مراکش سمیت دیگر ممالک میں ان پر ہونے والے تشدد میں ملوث تھے۔

برطانوی حکام اس الزام سے انکار کرتے رہے ہیں۔

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ برطانوی حکومت طویل عرصے تک چلنے والے مقدمے سے بچنا چاہتی ہے کیونکہ جہاں اس پر بڑے پیمانے پر اخراجات ہوں گے وہیں برطانوی خفیہ اداروں کا کردار بھی زیرِ بحث آئے گا۔

بشر الراوی، جمیل البناء، رچرڈ بلمار، عمر داغیث، بنیام محمد اور مارٹن موبنگا وہ برطانوی شہری یا برطانیہ کے رہائشی ہیں جنہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی خفیہ ادارے اور تین حکومتی شعبے ان پر ہونے والے تشدد میں ملوث تھے اور اگر وہ چاہتے تو یہ عمل روکا جا سکتا تھا۔

مئی میں ان مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ حکومت چھ مقدمات میں اپنے بچاؤ کے لیے ’خفیہ ثبوتوں‘ سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔اس کے بعد جولائی میں ہائیکورٹ نے اس مقدمے سے متعلقہ پانچ لاکھ دستاویز جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

بی بی سی کے سیاسی امور کے نامہ نگار راس ہاکنز کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں کے سو کے قریب افسران دن رات ان مقدمات پر کام کرتے رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت اس مقدمے کے اخراجات سے بچنا چاہتی ہے اور زرِ تلافی کی ادائیگی کے معاہدے کی تفصیلات بھی خفیہ رکھی جائیں گی کیونکہ یہ افراد اور حکومت دونوں یہی چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں