مذاکرات کی افواہیں مغربی چال ہیں: ملا عمر

Image caption ملا عمر کا بیان پرتگال میں نیٹو کے سربراہ اجلاس سے صرف چار دن پہلے نشر ہوا ہے۔ اس اجلاس میں افغانستان اہم ترین موضوعِ بحث ہوگا

طالبان رہنما ملا عمر نے کہا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ’مذاکرات کی افواہیں‘ مغرب کی چال ہیں جن کا مقصد افغانستان میں فوجی شکست کی پردہ پوشی کرنا ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کچھ باغیوں نے جن میں کچھ طالبان بھی شامل ہیں، افغان حکومت سے بات چیت کی ہے لیکن مغربی سفارت کار کہتے ہیں کہ حکومت اور باغیوں کے درمیاں اعلیٰ سطح کی بات چیت نہیں ہوئی۔

ملا عمر کا بیان عید الضحیٰ کے موقع پر میڈیا اور جہادی ویب سائٹس کو جاری کیا گیا ہے جس میں طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ مغرب، افغانستان میں جنگ ہار چکا ہے جس کو چھپانے کے لیے مذاکرات کی ’افواہیں‘ پھیلائی جا رہی ہیں۔

یہ بیان پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں نیٹو کے رہنماؤں کے اس سربراہ اجلاس سے محض چار روز قبل سامنے آیا ہے جس میں افغانستان کی صورتِ حال ایک اہم موضوع ہوگا۔

ملاعمر نے اپنے بیان میں کہا: ’دشمن پسپا ہو رہا ہے، ملک کے ہر حصے میں اس پر ہر روز عرصۂ حیات تنگ ہوتا جا رہا ہے اور ان کی ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ دشمن کی جانب سے مذاکرات کی گمراہ کن افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔‘

طالبان رہنما جن کے بارے میں افواہیں ہیں کہ وہ پاکستان میں ہیں، نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نجات کا واحد راستہ مسلح جہاد ہے اور مسائل کا حل افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کی واپسی اور ایک حقیقی اسلامی اور آزاد نظام کا قیام ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا مقصد طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ کرنا اور دشمن کو الجھانا اور اس طرح سے تھکا دینا ہے جیسے سابق سویت یونین کی فوجوں کو تھکایا گیا تھا۔ ‘

ملا عمر نے ان جہادی رہنماؤں کو بھی مخاطب کیا جو افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی انتظامیہ کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ان پر زور دیا کہ وہ ’حملہ آوروں‘ کے خلاف جدوجہد میں شامل ہو جائیں۔

سنہ دوہزار ایک میں افغانستان کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا لیکن رواں برس نیٹو کی افواج کے لیے مہلک ترین ثابت ہوا ہے۔

اس وقت افغانستان میں ایک لاکھ پچاس ہزار غیر ملکی فوجی ہیں لیکن امریکی صدر براک اوباما یہ منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ اگلے سال جولائی سے افغانستان سے امریکی فوجوں کی مرحلہ وار واپسی شروع کی جا سکے۔

اسی بارے میں