مصر کی امریکہ پر سخت تنقید

Image caption صدر براک اوباما کے دور میں امریکہ اور مصر کے تعلقات میں گرمجوشی دیکھنے میں آئی

مصر کی وزارت خارجہ نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مصر امریکہ کو ہرگز اجازت نہیں دے گا کہ وہ اس کے اندرونی معاملات کا’ نگران‘ بن جائے۔

مصر کی طرف سے امریکہ پر سخت تنقید امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے اس مطالبے کے بعد آئی جس میں مصر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اٹھائیس نومبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کے لیے عالمی مبصروں کو مصر آنے کی اجازت دے۔

امریکہ صدر براک کے مشیروں نے دو نومبر کو مصر سٹدی گروپ کے اراکان سے بھی ملاقات کی تھی جس پر مصر نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مصر کا موقف ہے کہ یہ سٹدی گروپ مشرق وسطیٰ میں بدامنی پھیلانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین کا یہ گروپ مصر میں انتخابی اصلاحات کی مہم چلا رہا ہے۔

مصر نے کہا ہے کہ وہ کسی کو اپنے سیاسی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا اور امریکہ کو اپنے گھر کے معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔

مصر عرب دنیا کے صرف دو ملکوں میں سے ایک ہے جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔

مصر نے اپنے ردعمل میں کہا ہے امریکہ کو اپنے سیاسی معاملات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور کہا ’جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ مصر کے معاملات میں مداخلت کرلےگا وہ غلط فہمی کا شکار ہے۔‘

مصر نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ باہمی عزت کا رشتہ تبھی برقرار رہ سکے جب امریکہ بھی اس کی پاسداری کرے ۔

مصر کے دفتر خارجہ کے ایک ترجمان ہوسم ذکی نے ایک ٹیلویژن انٹرویو میں امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر اس نے مصر ی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو پھر مصر کو بھی واضح موقف اختیار کرنا پڑے گا۔

مصر میں اگلے سال صدارتی انتخابات ہونا ہیں اور ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ بیاسی سالہ حسنی مبارک ایک بار پھر صدارتی امیدوار ہوں گے یا نہیں۔ حسنی مبارک نے انیس سو بیاسی میں صدر انور سادات کے قتل کے بعد مصر کا اقتدار سنبھالا تھا۔ مصر کے بعض سیاسی حلقوں نےخدشہ ظاہر کیا ہے کہ صدر حسنی مبارک اپنے بیٹے کو اپنا جانیشن بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

اسی بارے میں