نیٹو کا افغانستان سے انخلا کب، فیصلہ آج

نیٹو، لِزبن اجلاس کا ایک منظر
Image caption لِزبن کانفرنس کے ایجنڈے پر پہلے نمبر پر افغانستان ہے

میثاق شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی سربراہی کانفرنس آج پرتگال کے شہر لِزبن میں ہو رہی ہے جہاں نہ صرف اس تنظیم کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں بلکہ افغانستان میں برسرِ پیکار نیٹو افواج کے وہاں سے نکلنے کا وقت کا تعین کیے جانے کی امید ہے۔

افغانستان لِزبن کانفرنس کے ایجنڈے پر پہلے نمبر پر ہے۔ نیٹو تنظیم نے روس اور افغانستان کے سربراہوں کو بھی کانفرنس میں شریک ہونے کی دعوت دی ہے۔ بعض یورپی مبصرین اس کانفرنس کو نیٹو کی تاریخ کی سب سے اہم کانفرنس قرار دے رہے ہیں۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل فوگ راسموسن نے کہا ہے کہ سربراہی کانفرنس کے موقع پر افغانستان سے متعلق اہم اعلان کیا جائے گا۔ امید کی جا رہی کہ نیٹو کی سربراہی کانفرنس میں نیٹو افواج کو افغانستان سے نکلنے کا ٹائم ٹیبل دیا جائےگے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے نیٹو تنظیم سے کہا ہے کہ وہ 2014 تک افغانستان کے تمام علاقوں کا اختیار افغان فوجیوں کے حوالے کر دیں۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے نیٹو کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اپنے مشیروں سے اہم مشاورت کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے دو ہزار چودہ تک افغانستان سے نکلنے کی ڈیڈ لائن پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ افغانستان سے نکلنے کی ڈیڈ لائن ایک خواہشاتی مقصد ہے۔

نیٹو ممالک کی سربراہی کانفرنس ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب عالمی کساد بازاری کی وجہ یورپ کے کئی ممالک نے دفاعی اخراجات میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

بی بی سی کی دفاعی نامہ نگار کیرول وائٹ کے مطابق نیٹو تنظیم کی ساکھ افغانستان میں اس کی کامیابی یا ناکامی سے وابستہ ہو چکی ہے اور تنظیم وہاں سے اپنی ساکھ بچا کر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرے فوگ راسموسن نے کہاہے کہ ابتدا میں نیٹو تنظیم نے اسےافغانستان میں درپیش چیلنجوں کو اچھی طرح نہیں سمجھا تھا لیکن اب اس کی سمت بہتر ہے۔

روسی صدر دیمتری میدویایداف دو ہزار آٹھ میں جارجیا کےساتھ کشیدگی کے بعد پہلی بار نیٹو کی سربراہی کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ روس اور نیٹو یورپ کے دفاع کے لیے میزائلوں کے نظام سے متعلق منصوبے پر بات چیت کا آغاز کریں گے۔

ادھر روس نے افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے لیے اپنے ملک کے راستے سپلائی پہنچانے سے متعلق بعض ریاعتیں دینے کا وعدہ کیا ہے۔

نیٹو سربراہی کانفرنس کے موقع پر پرتگال کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے استعفے کے بعد سربراہان مملکت کی سکیورٹی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ البتہ پرتگال کے وزیر داخلہ اگستو سینتوز سِلوا نے کہا ہے کہ خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے استعفے کا نیٹو سربراہ کانفرنس کی سیکورٹی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

اسی بارے میں