نیٹو ممالک کےلیے میزائل شکن دفاعی نظام پر اتفاق

Image caption نیٹو سربراہان افغانستان کے بارے میں نیٹو کی حکمت عملی پر سنیچر کے روز غور کریں گے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ نیٹو ممالک کی سربراہی کانفرنس میں تمام نیٹو ممالک کو میزائل شکن دفاعی نظام مہیا کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ میزائل شکن دفاعی نظام یورپ اور شمالی امریکہ میں نصب کیا جائے گا۔

نیٹو سربراہان افغانستان سے نیٹو فوجیوں کے انخلاء سے متعلق فیصلہ سنیچر کو کریں گے۔

نیٹو کے اہم اجلاس میں افغانستان سے انخلاء کا فیصلہ متوقع

ماضی میں روس ایسے میزائل نظام کی مخالفت کرتا رہا ہے لیکن اس بار روسی صدر دیمتری میدوی ایدف کو نیٹو سربراہ اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے۔

نیٹو ممالک روس سے کہیں گے کہ وہ نہ صرف اس میزائل شکن دفاعی نظام کی حمایت کرے بلکہ اس پروگرام کا حصہ بن جائے۔ نیٹو سربراہان افغانستان کے بارے میں نیٹو کی مستقبل کی حکمت عملی پر سنیچر کے روز غور کریں گے۔

Image caption افغان صدر نیٹو سے کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کو 2014 تک افغانوں کے حوالے کر دیں

نیٹو نے روس اور امریکہ کے درمیان جوہری اسلحے کے ذخائر کو کم کرنے سے متعلق معاہدے کی حمایت کی ہے۔ اس معاہدے کی امریکی سینٹ سے توثیق ہونا باقی ہے۔

روس اور امریکہ کے درمیان سینیٹ کے سامنے ہے اور ریپبلیکن پارٹی کے کچھ سینٹر اس کی توثیق کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ وہ امریکی حفاظت سے متعلق مزید ضمانتیں چاہتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما کو جوہری معاہدے کی توثیق کے لیے ریپبلیکن پارٹی کے آٹھ سینٹروں کی حمایت کی ضرورت ہے۔ اس معاہدے کی توثیق کے لیے سو ممبران میں سے سڑسٹھ اراکان کی حمایت کی ضروری ہے اور صدر براک اوباما کی جماعت کو اتنے ممبران کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ اگر اس معاہدے کی توثیق سینٹ کے رواں اجلاس میں نہ ہوسکی تو صدر اوباما کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو جائیں گی اور انہیں چودہ ریپبلکن پارٹی کے سینٹروں کی حمایت ضروری ہو گی۔

سنیچر کے روز نیٹو ممالک کے سربراہان روسی صدر دیمتری میدوی ایدف سے ملاقات کریں گے۔ روسی صدر 2008 میں جارجیا کے ساتھ روس کی لڑائی کے بعد نیٹو اجلاس میں پہلی بار شرکت کر رہے ہیں

نیٹو ممالک کے سربراہان سنیچر کے روز افغانستان سے متعلق نیٹو کی حکمت عملی پر غور کریں گے۔

صدر اوباما نے نیٹو ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی ذمہ داری کو ترک کرنے کا 2011 میں شروع ہو گا اور وہ امید کرتے ہیں کہ 2014 تک یہ عمل مکمل ہو جائے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے، جن کا سنیچر کو اجلاس سے خطاب متوقع ہے، نیٹو تنظیم سے کہا ہے کہ وہ 2014 تک افغانستان کے تمام علاقوں کا اختیار افغان فوجیوں کے حوالے کر دے۔ اس ڈیڈلائن کے متعلق امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ قابلِ عمل ہے لیکن پتھر پر لکیر نہیں۔

اسی بارے میں