’نیٹو فوج کا انخلاء، کئی معاملات حل طلب‘

Image caption حامد کرزئی کو اس اجلاس میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے

افغانستان کے صدر حامد کرزائی افغانستان سے سنہ 2014 کے آخر تک نیٹو افواج کے انخلاء کے معاملے پر سنیچر کو لزبن میں نیٹو رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

صدر کرزائی کے ایک ترجمان کے مطابق افغانستان اور نیٹو کی دفاعی ترجیحات ایک جیسی ہیں لیکن اب بھی بہت سے معاملات ایسے ہیں جن سے نمٹنا باقی ہے۔

پرتگال میں جاری نیٹو ممالک کی سربراہی کانفرنس کے پہلے دن تمام نیٹو ممالک کو میزائل شکن دفاعی نظام مہیا کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ یہ میزائل شکن دفاعی نظام یورپ اور شمالی امریکہ میں نصب کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ نیٹو نے روس اور امریکہ کے درمیان جوہری اسلحے کے ذخائر میں کمی سے متعلق معاہدے کی حمایت کی ہے۔ اس معاہدے کی امریکی سینیٹ سے توثیق ہونا باقی ہے۔

اس وقت نیٹو کی ایساف فوج کے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی افغانستان میں موجود ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق امریکہ سے ہے۔ امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ ایساف کا مشن ’ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے‘ اور یہ کہ افغان سکیورٹی فورسز کو ملک کے سکیورٹی انتظامات منتقل کرنے کا ہدف فی الحال سنہ 2014 ہی ہے۔

نیٹو کے کچھ ارکان نے یہ خدشات ظاہر کیے ہیں کہ سنہ 2014 تک افغانستان ممکنہ طور پر اپنی سکیورٹی سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہوگا تاہم تنظیم کے سیکرٹری جنرل آندریس راسموسین کے مطابق یہ ’ایک حقیقی ہدف ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2015 اور اس کے بعد ایساف فوجی افغانستان میں سرگرم تو ہوں گے تاہم ان کا کردار زیادہ تر افغان فوج کی تربیت میں ہوگا۔

Image caption افغانستان میں نیٹو کے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی موجود ہیں

افغان صدر کرزئی کے ترجمان اور مشیر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ نیٹو اور افغانستان انخلاء کے حوالے سے ایک جیسے سٹریٹیجک عزائم رکھتے ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ اب ’عملدرآمد کے معاملات پر کام کریں‘ اور آنے والے سالوں کے لیے اہداف کا تعین کریں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اشرف غنی نے کہا کہ ’ ہم منزل پر متفق ہو چکے ہیں اور اب سوال ذرائع جمع کرنے اور قیامِ امن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک مشترکہ قابلِ عمل حکمتِ عملی بنانے کا ہے‘۔

نیٹو سربراہ اجلاس کے دوسرے دن روسی صدر دیمیتری میدویدیو بھی خطاب کریں گے۔ ماضی میں روس نیٹو ممالک کے ایسے میزائل نظام کی مخالفت کرتا رہا ہے لیکن اس بار روسی صدر دیمتری میدوی ایدف کو نیٹو سربراہ اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے۔

نیٹو ممالک روس سے کہیں گے کہ وہ نہ صرف اس میزائل شکن دفاعی نظام کی حمایت کرے بلکہ اس پروگرام کا حصہ بن جائے۔

اسی بارے میں