حامد کرزئی کی سوچ یکسر کیوں بدل گئی؟

صحافی احمد رشید افغان صدر حامد کرزئی سے دو گھنٹے کی طویل ملاقات کے بعد بتاتے ہیں کہ افغان صدر کی سوچ میں یکا یک اتنی بڑی تبدیلی کیسی آ گئی ہے۔صحافی احمد رشید کی گزشتہ چھبیس برس سے حامد کرزئی سے شناسائی ہے۔

Image caption حامد کرزئی رویےسے افغانوں کو تذبذب میں ڈال رہے ہیں

حامد کرزئی کو یقین ہو چلا ہے کہ یورپ بالخصوص امریکہ نہ تو افغانستان میں امن بحال کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے اور نہ ہی وہ پاکستان کو مجبور کر سکا ہے کہ وہ طالبان رہنماؤں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا نہ کرے۔

حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ماضی اور حال کی ناکامیوں کا الزام افغانوں کو دے کر غلطی کرتا ہے اور اس کی حکومت پر کرپشن کے الزامات لگانا بھی امریکہ کی ایک غلطی ہے۔

افغان صدر سے ان کے صدارتی محل میں دو گھنٹے کی ملاقات کے بعد مجھ پر واضح ہوگیا کہ صدر کرزئی کے افغانستان میں امریکہ فوجی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق خیالات یکسر بدل چکے ہیں۔

حامد کرزئی دہشتگردی کے خلاف جنگ کی امریکی تعریف سے متفق نہیں ہیں اور جنوبی افغانستان میں امریکہ کی فوجی کارروائیوں سے بھی سخت نالاں ہیں۔ حامد کرزئی سمجھتے ہیں کہ امریکی کی پالیسی لاشوں کی گنتی کےگرد گھومتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ افغان شہر چھاؤنیاں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور افغان لوگ ان سے بدظن ہیں۔

حامد کرزئی امریکی سپیشل فورسز کی جانب سے رات کو کی جانے والی کاررائیوں کی فوراً بندش چاہتے ہیں۔ نیٹو کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ تین مہینوں میں درمیانے درجے کے تین سو اڑسٹھ طالبان کو ہلاک کیا گیا ہے اور طالبان کے نو سو ارسٹھ پیادہ سپاہیوں کو بھی ٹھکانے لگا دیا ہے۔ کسی کو علم نہیں ان میں کتنے عام شہری تھے۔

حامد کرزئی سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور ایران کا تعاون نیٹو کا سیاسی متبادل ہو سکتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں پاکستان اور ایران کے تعاون سے نہ صرف جنگ ختم ہو سکتی ہے بلکہ طالبان کے ساتھ معاہدہ بھی طے پا سکتا ہے۔

گزشتہ چھ مہینوں میں پاکستان اور ایران نے افغان صدر کے لیے کچھ ایسا نہیں کیا جس پر انحصار کر کے وہ طالبان کے ساتھ معاہدہ کر سکے لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان اور ایران کو نیٹو کا سیاسی متبادل سمجھتے ہیں۔

کابل میں مغربی اور افغانستان کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں مغربی افغانستان میں طالبان کی مدد میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایران شایداس لیے ایسا کر رہا ہے کہ وہ مستبقل میں افغانستان میں ہونے والے کسی معاہدے میں اپنا زیادہ کردار چاہتا ہے۔

پاکستان جس پر الزام ہے کہ اس نے طالبان کی تمام اعلیٰ قیادت کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے، چاہتا ہے کہ جب نیٹو اور حامد کرزئی طالبان کے ساتھ بات چیت کریں تو اس میں اس کا مرکزی کردار ہونا چاہیے۔

میں نے پچھلے چھبیس برسوں میں حامد کرزئی کے خیالات میں اتنی ڈرامائی تبدیلی آتے نہیں دیکھی۔حامد کرزئی کے خیالات میں تبدیلی کی وجہ کچھ تو سازشی خیالات ہیں جن پر انہوں نے بہت دھیان دینا شروع کر دیا ہے اور کچھ ان کی مغربی ممالک سے مایوسیاں ہیں جن کا سامنا انہیں پچھلے نو سالوں میں کرنا پڑا۔

حامد کرزئی پچھلے نو سالوں میں پہلے امریکہ سے اور اب نیٹو سےمختلف پیغامات سن سن کی تنگ آ چکے ہیں۔ امریکی صدر بش نے افغانستان پر حملے کے پہلے چار سالوں میں پورے افغانستان پر قابو پانے کے لیے وسائل اور فوج مہیا سے صاف انکار کر دیا تھا۔ موجودہ امریکی صدر براک اوباما افغانستان کے بارے میں کوئی واضح پالیسی نہیں رکھتے۔

صدر اوباما کبھی تو افغانستان میں مزید فوجی کمک بھیجنے پر رضامند ہو جاتے ہیں تو کبھی افغانستان سے نکلنے کی تاریخوں کا اعلان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اس صورتحال سے افغان تذبذب کا شکار ہیں۔ صدر کرزئی نہیں جانتے کہ افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی کو کون نافذ کر رہا ہے۔ البتہ فوجی پالیسی سے متعلق انہیں واضح ہے کہ جنرل ڈیوڈ پیٹرائس یہ کام نبھا رہے ہیں۔

دریں اثناء وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے جنرل ڈیوڈ پیٹرائس کی ’فوجی سرج‘ کی پالیسی کے نتائج کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔

ایسے حالات میں جب پورے افغانستان میں جنگ جاری ہے اور مغربی فوجیں وہاں سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہی ہیں، حامد کرزئی چاہتے ہیں کہ وہ ایسا بااخیتار صدر نظر آئیں جو افغانستان کی خود مختاری کی حفاظت کر سکتا ہے۔

جب روسی افواج نے افغانستان سے جانے کا فیصلہ کر لیا تھا تو افغانستان کے کیمونسٹ صدر نجیب اللہ نے بھی حامد کرزئی جیسا رویہ اپنانے کی کوشش کی تھی۔

حامد کرزئی نجیب اللہ کی نقل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس وہ سب کچھ نہیں ہے جو نجیب اللہ کے پاس تھا۔ افغانستان کی خود مختاری کا اظہار صرف طالبان کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہے۔

لیکن حامد کرزئی اپنے موجودہ رویےسے افغانوں کو تذبذب میں ڈال رہے ہیں۔ ایک طرف تو وہ حکومت ہیں اور دوسری طرف وہ اپوزیشن کا کردار نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ طالبان کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں لیکن کبھی اپنے فوجیوں کی موت کا ذکر تک نہیں کیا۔

حامد کرزئی کی یہ بھی خام خیالی ہے کہ وہ پاکستان اور ایران کی مدد سے افغانستان کے حالات پر قابو پا سکتے ہیں۔ دونوں پاکستان اور ایران خود مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔

حامد کرزئی کی کابینہ کے اکثر اراکان ان کے خیالات سے متفق نہیں ہیں اور وہ مغربی افواج کے ساتھ مکمل تعاون میں مصروف ہیں۔ لیکن حامد کرزئی کے خاندان پر بدعنوانی کے الزامات ان کے عالمی برادری کے ساتھ برتاؤ کے دوران پریشانی کا سبب بنتا ہے۔

افغانستان میں برسرِ پیکار نیٹو کے لیے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ گزشتہ نو سالوں کی اپنی کارکردگی کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں اور اپنی ناکامیوں اور کامیابیوں کا تجزیہ کرتے وقت افغان صدر پر الزامات نہ تھونپے۔

نیٹو اور امریکہ کی افغانستان کے بارے میں پالیسی کو زیادہ شفاف بنانےکی ضرورت ہے ۔ حامد کرزئی کے لیے بھی ضروری ہےکہ سازشیوں خیالات پر کم کان دھریں اور اپنے مشیروں سے صلاح مشورہ پر زیادہ توجہ دیں۔

اسی بارے میں