آخری وقت اشاعت:  منگل 23 نومبر 2010 ,‭ 11:50 GMT 16:50 PST

کمبوڈیا:ہلاکتیں 378، ملک میں سوگ

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

(اس ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر حادثے کے بعد کے ہیں)

کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پینہ میں ایک تقریب کے دوران بھگدڑ سے تین سو اٹھہتر افراد کی ہلاکت پر ملک کے وزیر اعظم ہن سین نے جمعرات کو سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب سال کے ایک اہم تہوار کو منانے کے لیے ایک بہت بڑا مجمع ایک چھوٹے سے جزیرے پر جمع ہو گیا جہاں پانی کا تہوار منانے کا آخری دن تھا۔

کلِک پل پر ہلاکتیں: تصویروں میں

عینی شاہدین کے مطابق بھگدڑ ایک پل کے اوپر مچی جہاں بہت زیادہ لوگ جمع ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔

پل کے دونوں طرف سے لوگ ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے اور جو لوگ درمیان میں تھے وہ یہ برداشت نہ کر سکے اور گر گئے اور پھر لوگوں کے پاؤں تلے روندے گئے

عینی شاہد

کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پینہ کے رہائشی شان گُو بھی بھگدڑ کے وقت میلے میں شریک تھے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا: ’سڑک ختم ہوتے ہی ایک دریا آتا ہے، جسے میکانگ دریا یا ٹونلے سیپ کہتے ہیں۔ دریا میں ایک جزیرہ ہے جسے ایک پُل کے ذریعے بیرونی شاہراہ سے ملایا گیا ہے۔ مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات کے گیارہ بجے جشن کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جو چیخ و پکار میں بدل گئیں‘۔

ان کے مطابق ’چیخیں اتنی خوفناک تھیں کہ انہیں سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ ہم بھاگ کر وہاں پہنچے تو دیکھا کہ پُل کے دونوں طرف سے لوگ ایک دوسرے کو دھکیل رہے ہیں۔ چنانچہ درمیان میں کھڑے لوگ کچلے جانے لگے۔ کوئی پُل پر گر رہا تھا تو کوئی دریا میں کود رہا تھا۔ لوگوں نے باہر نکلنے کے لیے بجلی کی تاریں پکڑنا شروع کر دیں۔ ہر طرف بجلی تاروں سے نکلنے والے شعلے چمکنے لگے۔ ایک کہرام مچ گیا۔‘

کمبوڈیا میں بھگدڑ

لوگ وہاں ایک اہم تہوار منانے کے لیے جمع ہوئے تھے

کمبوڈیا کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ حادثہ 1970 کی دہائی میں کھمیر روج کی طرف سے وسیع پیمانے پر کیے جانے والے قتلِ عام کے بعد کمبوڈیا کو پیش آنے والا سب سے بڑا حادثہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ ملک میں قومی سوگ کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اس تہوار میں شرکت کے لیے کم از کم بیس لاکھ افراد متوقع تھے۔

حادثے کے بعد نوم پینہ کا سب سے بڑا ہسپتال لاشوں سے بھر گیا اور وہاں بے پناہ ہجوم کی وجہ سے کئی زخمیوں کو راہداریوں میں ہی طبی امداد دی جاتی رہی۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔