غزہ حملہ: اسرائیلی فوجیوں کو معطل سزائیں

غزہ کے بچے: فائل فوٹو
Image caption اسرائیلی حملے کے بعد غزہ کے بچے بری طرح سہم گئے تھے: فائل فوٹو

اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے سن 2009ء میں غزہ پر حملے کے دوران ایک فلسطینی بچے کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے پر دو اسرائیلی فوجیو ں کو معطل سزائیں سنائی ہیں اور ان کی تنزلی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ بچوں کے حقوق کی عالمی تنظیم نے سزاؤں کو ناکافی قرار دیتے عدالتی فیصلے کو مستر کردیا ہے۔

اسرائیل نے دسمبر 2008ء میں غزہ پر حملہ کیا تھا جو تین ہفتوں تک جاری رہا تھا اس حملے میں 1400 فلسطینی مارے گئے تھے جن میں نصف کے قریب عام شہری تھے اور لگ بھگ ڈھائی سو بچے بھی شامل تھے۔

جن فوجیوں کے لیے معطل سزاؤں کا اعلان ہوا ہے انہوں نے ایک نو سالہ فلسطینی بچے سے اسلحے کے زور پر ایک مشکوک تھیلہ کھلوایا تھا جس میں انہیں شک تھا کہ بم رکھا ہوا ہے۔

ججوں نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ دونوں فوجی مشکل اور خطرناک جنگی حالات میں کام کر رہے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ دونوں فوجی دو سالوں تک پروبیشن پر رہیں گے۔

پچھلے مہینے اکتوبر میں ان فوجیوں پر مقدمے کی کارروائی کے دوران ماجد رباہ نامی فلسطینی بچے نے کہا تھا کہ اس نے موت کے خوف سے تھیلہ کھولا تھا۔

عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے حلف نامے میں فلسطینی بچے نے کہا تھا کہ اسے لگا تھا کہ کہنا نہ ماننے پر اسرائیلی فوجی اسے جان سے ماردیں گے۔ اس وقت وہ دہشت زدہ ہوگیا تھا اور ڈر کے مارے اسکا پیشاب نکل گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل میں فوجی اہلکاروں کو سزا سنائے جانے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

ماجد رباہ کی والدہ فاطمہ نے بھی اسرائیلی فوجیوں کے لیے سنائی گئی سزاؤں پر تنقید کرتے کہا ہے کہ یہ سزائیں بہت معمولی ہیں۔

’یہ کھلی ناانصافی ہے۔ انہیں اس سے زیادہ سزا ملنی چاہیے تھی۔ ایمانداری کی بات ہے کہ ہمیں اس وقت جو خوف محسوس ہوا تھا اور اسکے بعد بھی جو خوف لاحق رہا اور بچے پر اسکے جو برے اثرات پڑے، اسکی بنا پر اسرائیلی فوجی زیادہ سزا کے مستحق تھے۔‘

لیکن ملزمان کے وکیل ایلن کاٹز نے کہا ہے کہ سزائیں مناسب ہیں۔

’عدالت کا دونوں فوجیوں کو جیل نہ بھیجنے کا فیصلہ صاف ظاہر کرتا ہے فوجی عدالت بھی یہ نہیں سمجھتی تھی کہ اس کیس میں ایسا ہونا چاہیے کیونکہ انہوں نے وہی کیا تھا جو ایک سخت جنگ میں ہوتا ہے جب ان کی اپنی زندگیاں سخت خطرے میں تھیں۔‘

ادھر بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم چلڈرن انٹرنیشنل نے بھی عدالتی فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس پوری عدالتی کارروائی کا مقصد اسرائیل کو عالمی تنقید سے بچانا ہے۔

اسی بارے میں