’کابل میں بچے نیویارک، لندن سے زیادہ محفوظ‘

کابل کے بچے: فائل فوٹو
Image caption کابل میں بچوں کے متعلق بیان پر کافی تنقید کی گئی ہے

نیٹو کے اہلکار نے کہا ہے کہ کابل میں بچے شاید لندن، گلاسگو اور نیو یارک کی نسبت زیادہ محفوظ زندگی گزار رہے ہیں۔

مارک سِڈول نے کہا کہ کابل جو کہ ’کئی دیہات کا شہر‘ ہے وہ لڑائی کے خطرات کے باوجود نوجوانوں کے لیے بہت سے مغربی شہروں سے بہتر ہے۔

نیٹو کے سینیئر اہلکار نے سی بی بی سی کے نیوز راؤنڈ کو بتایا کہ ’اکثر بچے اپنی زندگی بحفاظت گزار رہے ہیں۔‘

لیکن کابل کے کئی نوجوانوں نے اپنے خوف کے متعلق بتایا ہے اور بچوں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ نے کہا ہے کہ ’یہ دعویٰ غلط اور گمراہ کن ہے۔‘

برطانیہ کے شہر گلاسکو کی سٹی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ مارک سِڈول کا اپنے بیان میں شہر کو شامل کرنا غلط تھا۔

سی بی بی سی کے پروگرام میں ایک گیارہ سالہ بچی منیجا نے بتایا کہ ’جب دھماکے ہوتے ہیں تو میں دکھی ہو جاتی ہوں کیونکہ لوگ مر رہے ہوتے ہیں، لیکن اگلے دن جب وہ زندہ ہوتے ہیں اور نارمل زندگی گزار رہے ہوتے ہیں تو میں خوش ہوتی ہوں۔‘

ایک سولہ سالہ بچے سہراد نے بتایا کہ ’شہر میں دھماکوں کی وجہ سے جب ہم سکول جاتے ہیں تو بہت خوف محسوس کرتے ہیں۔ ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں سکول میں دھماکے نہ ہو جائیں۔‘

نیٹو کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’درحقیقت کابل اور دوسرے بڑے شہر میں اس طرح کے بہت کم بم ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس معاشرے میں خاندان بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس طرح یہ کچھ دیہات کا شہر سا بن گیا ہے۔‘

’سیو دی چلڈرن‘ کے چیف ایگزیکیوٹیو جسٹن فورستھ نے کابل کے بچوں کا مغربی شہروں میں رہنے والے بچوں کے ساتھ مقابلہ کرنا غلط ہے۔

’افغانستان کسی بھی بچے جائے پیدائش کے لیے دنیا کی سب سے بری جگہ ہے۔ وہاں رہنے والے چار بچوں میں سے ایک پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک ہو جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں افغانستان میں رہنے والے بچوں کی باتیں سننا چاہیئں۔ 2001 کے آخر کے بعد گزشتہ سال وہاں کے بچوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک تھا۔ لڑائی کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد ہلاک ہوئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ صرف بموں کے متعلق نہیں ہے۔ روزانہ 850 بچے ہلاک ہوتے ہیں، ان میں سے اکثر خوراک کی کمی کی وجہ سے ہیضے اور نمونیے جیسی بیماریوں سے ہلاک ہو جاتے ہیں کہ جن کا علاج ہو سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں