ایران: ایٹمی پلانٹ نے کام شروع کر دیا

ایرانی جوہری پلانٹ فائل فوٹو

ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران کے پہلے جوہری پلانٹ نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

جوہری پروگرام کے سربراہ علی اکبر کے مطابق بوشہر میں واقع جوہری گھر میں فیول راڈ فٹ کر کے ریکٹر کے ڈھکنے کو سیل کر دیا گیا ہے۔

اُن کے مطابق سائنسدان ایٹمی ریکٹر میں موجود پانی کے گرم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایٹی پلانٹ کو چند مہینوں میں ایران کے نیشنل گرڈ سے منسلک کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق بوشہر میں واقع جوہری بجلی گھر میں ایندھن بھرنے کا عمل شروع کر دیا گیا تھا۔ بوشہر کے جوہری ریکٹر میں افزودگی کے عمل کے لیے یہ پہلا مرحلہ تھا جس میں سے دو ہزار گیارہ سے بجلی کی پیداوار شروع ہونا تھی۔

جنوبی ایران میں واقع اس جوہری تنصیب کو روسی ماہرین چلائیں گے، روس اسے جوہری ایندھن بھی مہیا کرےگا اور پھر بچا ہوا فضلہ خود ہی لے جائےگا۔

ایران اور روس کے انجینیئروں نے اگست میں ہی اس ری ایکٹر میں ایندھن ڈالنے کا عمل شروع کردیا تھا لیکن بعض تکنیکی خرابیوں کے سبب اس عمل میں تاخیر کر دی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک روس اس پلانٹ کو چلاتا رہے گا اور ایٹمی توانائی کا عالمی ادارہ اس کی نگرانی کرتا رہے گا تب تک اس سے جوہری پھیلاؤ کا کوئی حطرہ نہیں ہے۔

مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام کو خطرہ تصور کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران در اصل جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے یہ سب کر رہا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام سویلین مقاصد کے لیے ہے۔

اسی بارے میں