’جنوبی کوریا نے شہریوں کو ڈھال بنایا‘

فائل فوٹو
Image caption جنوبی کوریا کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے موثر حمکتِ عملی اپنائی جائے گی: شمالی کوریا

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ متنازعہ مغربی سرحد پر واقع جزیرے کی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

منگل کو شمالی کوریا کے توپخانے نے یون پیونگ نامی جزیرے پر پچاس کے قریب گولے پھینکے تھے اور اس کارروائی میں جنوبی کوریا کے دو فوجی اور دو شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مارا گیا ہے تو اسے اس پر افسوس ہے۔ تاہم شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ اس واقعے کی ذمہ داری جنوبی کوریا پر عائد ہوتی ہے جو بقول اس کے اپنے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

شمالی کوریا نے کہا کہ جنوبی کوریا اپنے شہریوں کی ہلاکتوں کو ڈرامائی انداز میں پیش کر کے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ اس نہتے شہری شمالی کوریا کی اندھا دھند گولہ باری کا شکار ہوئے ہیں۔

ادھر سنیچر کو جنوبی کوریا میں اس حملے میں مارے جانے والے دو فوجیوں کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنا دیا گیا۔ اس جنازے کو سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر بھی کیا گیا۔

جنازے میں جنوبی کوریا کے وزیراعظم کم ہوانگ سک اور میرین کور کے سربراہ میجر جنرل یو ناک جن کے علاوہ سینکڑوں سرکاری اور فوجی افسران نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر جنرل یو ناک جن کا کہنا تھا کہ ’ہم یقیناً اپنے فوجیوں کی ہلاکت کا شمالی کوریا کو ہزار گنا بڑا جواب دیں گے‘۔

بحیرۂ زرد میں جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ مشقوں کی تیاری بھی جاری ہے اور شمالی کوریا نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ جنگی مشقیں خطے کو جنگ کے دہانے کی جانب دھکیل رہی ہیں۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا، جنوبی کوریا کی کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دے گا۔

اسی بارے میں