امریکہ، جنوبی کوریا فوجی مشقوں پر کشیدگی

چین نے جنوبی کوریا اور امریکہ کی فوجی مشقوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی سخت کشیدگی کے تناظر میں اُن چھ ملکوں کے درمیان فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے جو شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں ہونے والی گفت و شنید میں شامل ہیں۔

اس چھ ملکی گروپ میں جنوبی اور شمالی کوریا سمیت امریکہ، روس، جاپان اور چین شامل ہیں۔

ایک چینی اہلکار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس خطے میں حالیہ پیش رفت پر چین کو سخت تشویش ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دسمبر کے ابتدائی ہفتے ہیں چھ ملک مل کر اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوئی راہ تلاش کریں۔

دریں اثناء جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ چھ ملکی مذاکرات شروع کرنے کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں شروع ہوئیں ہیں جب جنوبی کوریا اور امریکہ نے مل کر جنوبی کوریا کے مغربی ساحل پر چار روزہ فوجی مشقیں شروع کردی ہیں جس کے بعد شمالی کوریا نے خبردار کیا ہے کہ مشترکہ جنگی مشقیں خطے کو جنگ کے دہانے کی جانب دھکیل رہی ہیں۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اگر فوجی مشقیں اُس کے پانیوں تک پہنچیں تو وہ جوابی کار روائی کرے گا۔

جبکہ امریکہ کا موقف ہے مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں جن کا مقصد شمالی کوریا کو جنوبی کوریا پر مزید حملوں سے باز رکھنا ہے اور یہ کہ ان مشقوں کی منصوبہ بندی بہت پہلے کی گئی تھی۔

سیؤل میں فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ان فوجی مشقوں کا شیڈول شمالی کوریا کی جانب سے اس کے ایک جزیرے پر گولہ باری سے بہت پہلے تیار ہو چکا تھا۔ تاہم ان مشقوں کی شدت میں ان حملوں کے بعد اضافے کی توقع ہے۔

یاد رہے کہ منگل کے روز شمالی کوریا کے توپخانے نے یون پیونگ نامی جزیرے پر پچاس کے قریب گولے پھینکے تھے اور اس کارروائی میں جنوبی کوریا کے دو فوجی اور دو شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مارا گیا ہے تو اسے اس پر افسوس ہے۔ تاہم شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ اس واقعے کی ذمہ داری جنوبی کوریا پر عائد ہوتی ہے جو بقول اس کے اپنے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا، جنوبی کوریا کی کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دے گا۔

فوجی مشقوں میں جارج واشنگٹن نامی امریکی بحری بیڑے کے علاوہ امریکی فوجی قافلے میں چار دیگر بحری جنگی جہاز شامل ہیں جو جنوبی کوریا کے جنگی بحری جہازوں اور آبدوز شکن میزائلوں سے لیس سرحد پر گشت کرنے والے چھوٹے بحری کے ساتھ چار روزہ فوجی مشقوں میں حصہ لیں گے۔

یہ مشقیں شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان متنازعہ سمندری حدود سے ایک سو پچیس کلومیٹر دور کوریائی ساحل پر منعقد کی جارہی ہیں۔ ان میں شامل امریکی بحری بیڑا اس علاقے سے مزید دور ہوگا تاہم چین کے کئی شہر اس کے نشانے کی زد میں ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں