وکی لیکس کو اوباما انتظامیہ کا انتباہ

امریکہ نے وکی لیکس کو خبردار کیا ہے کہ امریکی وزارتِ خارجہ کی خفیہ دستاویزات کے اجراء سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی، عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہو گی اور امریکہ کے اپنے اتحادیوں سے تعلقات بگڑ سکتے ہیں۔

وکی لیکس ہیں کیا

امریکی وزارتِ خارجہ کے وکیل نے ہفتے کو وکی لیکس کے سربراہ جولین اسانش کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان دستاویزات کے اجراء سے خفیہ فوجی کارروائیاں منظر عام پر آ جائیں گی اور امریکی ساکھ کو زبردست دھچکا پہنچے گا۔

وکی لیکس امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو بھیجنے جانے والے ڈھائی لاکھ سے زیادہ خطوط اتوار کو شائع کرنے والا ہے اور ان خطوط کی کاپیاں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز، برطانوی اخبار گارڈین اور ایک جرمن نشریاتی ادارے کو پہلے سے مہیا کر دی گئی ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے قانونی مشیر ہیرالڈ کوہ نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانش کو یہ خط جواباً تحریر کیا ہے۔ جولین اسانش کے وکیل نے امریکی وزارت خارجہ سے ان افراد کے ناموں کی فہرست مانگی تھی جن کی زندگیوں کو بقول امریکی حکومت کے دفترِ خارجہ کی دستاویزات کے اجراء سے ممکنہ طور پر خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ خفیہ دستاویزات کو جاری کرنا امریکی قانون کی خلاف ورزی ہو گا۔

جولین اسانش نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو ان دستاویزات کے جاری ہونے کے بعد جوابدہ ہونا پڑے گا جس سے وہ خوف زدہ ہے۔

ادھر امریکہ نے خفیہ دستاویزات کے حوالے سے برطانیہ سمیت متعدد ممالک کے حکام سے رابطے کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ترکی، اسرائیل، ڈنمارک اور ناروے کی حکومتوں کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ ان سفارتی دستاویزات کے سامنے آنے سے ممکنہ طور پر انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ خفیہ دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے سے امریکہ کے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اور اس ضمن میں حلیف ممالک کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اس سلسلے میں امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے چین کے علاوہ جرمنی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، فرانس اور افغانستان کے سربراہان سے بھی بات کی ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے ایک ترجمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ ’یقیناً حکومت کو امریکی حکام اور امریکی سفیر نے ممکنہ طور پر افشا کی جانے والی دستاویزات کے بارے میں بریفنگ دی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک یہ دستاویزات سامنے نہیں آ جاتیں اس وقت تک میں یہ اندازہ نہیں لگانا چاہتا کہ یہ کس بارے میں ہیں‘۔

اسی بارے میں