انکشافات کے بعد۔۔۔

امریکی سفارتخانہ، لندن
Image caption امریکی سفارتکاری کو دھچکا لگا ہے

وکی لیکس پر امریکی سفارتکاروں کے خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے مشرق وسطی میں امریکی سفارتکاری کو دھچکا لگا ہے اور متعلقہ سفارکاروں کو اس سکیورٹی لیک پر اب مشکلات کا سامنا ہے۔

ان دستاویزات میں خطے کے کئی رہنماؤں کے خیالات اور سیاسی اہمیت کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، بحرین اور ابوظہبی نے امریکہ پر زور دیا تھا کہ ایران پر بمباری کرنا مناسب ہوگا۔

یہ پیغامات اس ای میل کے نظام پر بھیجے گئے تھے جو پینٹاگون اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو دنیا بھر کے امریکی سفارتکاروں کے درمیان رابطوں کے لیے جوڑنے کے لیے رائج ہے اور جسے سکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ان پیغامات کو پالیسی نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ ’واشگنٹن کو بھیجی جانے والی اس نوعیت کی فیلڈ رپورٹنگ میں اکثر معلومات نامکمل ہوتی ہے اور جائزے بہت کڑے۔‘

لیکن اعلیٰ سطحی سکیورٹی کی اس ناکامی سے امریکی سفارتکاروں اور غیر ملکی حکومتوں کے درمیان تعلقات متاثر تو ہونگے اور وقتی طور پر کشیدگی کا امکان ہے۔ اب امریکہ پر لازم ہے کہ وہ ان ممالک کو یقین دلائے کہ آئندہ اس طرح کی سکیورٹی غلطی نہیں ہوگی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سفارتی ابطوں کا یہ نظام گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد ہی اس مقصد سے شروع کیا گیا تھا کہ امریکی حکومت کے مختلف حصے ایک دوسرے سے بہتر رابطے میں رہیں۔

ان دستاویزات میں کئی ایسے انکشافات ہیں جس سے امریکہ کو شرمندگی کا سامنا ہے۔ ان میں پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کے کئی اعلی اہلکاروں کے سفر کے شیّڈول کے بارے میں معلومات نکلوائی تھیں اور اقوام متحدہ کے رابطوں کے سسٹم کو مانیٹر بھی کیا تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے ہے کہ امریکہ سفارتکاری سے زیادہ جاسوسی کر رہا تھا۔

شاید یہ زیادہ تعجب کی بات نہ سمجھی جائے کیونکہ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومتیں اس طرح کے کام کرتی ہیں اور ان کے پاس جتنے زیادہ وسائل اتنا زیادہ کرتی ہیں۔ اور اس نگرانی میں وہ نہ صرف دشمنوں بلکہ دوستوں پر بھی نظر رکھتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے لیکن اس کی تفصیل اخبار میں پڑھنا کچھ نا گزیر لگتا ہے!

پالسی کے لحاظ سے وکی لیکس کی کہانیوں میں کوئی خاص نئی چیز نہیں ہے۔مثال کے طور پر یہ ازام کہ شمالی کوریا اور ایران نے میزائل پروگراموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ہے۔یہ کافی عرصے سے ماہرین کی رائے ہے اور سینئیر امریکی سفارتکاروں نے اکثر صحافیوں کو یہ بریفنگ بھی دی ہے۔

لیکن محققین کے لیے یہ دستاویزات انتہائی اہم ہیں۔

امور خارجہ پر تحقیق کرنے والے کو اب امریکی سفارتکاری کے اندر کی ایک تصویر دیکھنے کو ملے گی جس سے پھر خارجہ پالسی کی تشکیل کے کئی پہلو سامنے آئیں گے۔

امریکی روزنامے ’نیو یارک ٹائمز‘ نے معلومات اور پالسی فیصلوں کے درمیان رابطے پر روشنی ڈالی ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالسی کا سعودی عرب اور چین کے تعلقات سے کیا تعلق تھا۔ چین سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ تہران سے اپنے رابظہ ختم کردے تو اس کو تیل کی تنصیبات یقینی بنادی جائے گی۔ اس کے علاوہ میزائل دفاعی نظام پر امریکہ اور روس کی بحث کے بارے میں بہت کچھ پتہ چلتا ہے۔ دونوں کا مقصد ایران کے خلاف پابندیوں میں چین اور روس کی حایت حاصل کرنا تھا۔

یہ دستاویزات جتنی بھی دلچسپ ہیں ان میں اب تک کوئی ایسے انکشافات نہیں ہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ اصل میں امریکی پالیسی ظاہر کچھ کی جا رہی تھی اور اصل میں کچھ اور تھی۔

لیکن پھر بھی بہت سی سمجھی جانے والی باتوں کو دستاویزات میں ظاہر کی جانے والے الفاط میں دیکھ کر کچھ لوگوں کو دھچکا لگے ہے۔ مثال کے طور پر ایران اور عرب ممالک کے معاملے میں عام خیال یہ تھا کہ عرب ممالک ایران کو روکنے اور سمجھانے کے حق میں تو تھے لیکن ان دستاویزات سے یہ ایک حقیقت بن جاتی ہے اور ان ممالک کو اپنے لوگوں کے مشکل سوالات کا اب جواب دینا ہوگا۔

عرب ممالک میں عوام کی ایران کے بارے میں رائے اکثر مثبت ہے کیونکہ لوگوں کا خیال ہے کہ ایران اصولوں پر کاربند ہے، امریکہ کا غلام نہیں ہے اور وہ فلسطینوں حمایت کرتا ہے۔

لیکن یہ تو شروعات ہیں۔ آگے وکی لیکس کی بہت سی کہانیاں اور نکلنے والی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے بارے میں منفی ریمارکس کے علاوہ برطانیہ کے شاہی خاندان کے ایک فرد کے ’غیر مناسب رویہ‘ کا ذکر بھی شامل ہے۔

کہانیاں آتی جائیں گی، دیگر افراد کا ذکر ہوگا لیکن سب سے زیادہ مایوسی اور شرمندی امریکی سفارتکاروں کو ہی ہوگی۔ ان کے لیے یہ ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔

اسی بارے میں