انتہاؤں کی دنیا: کرپشن

انتہاؤں کی دنیا سیریز کے دوسرے حصے میں ہماری نظر کرپشن پر ہوگی اور نامہ نگار صومالیہ اور سویڈن کا جائزہ لیں گے اور اس بات کی تحقیق کریں گے کہ آیا حقیقت وہی ہے جو دکھائی دیتی ہے۔

برما، افغانستان اور عراق جیسے جنگ اور دیگر مسائل کا شکار ممالک کے مقابلے میں صومالیہ کو ایک بار پھر دنیا کا سب سے کرپٹ ملک قرار دیا گیا ہے۔

جبکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے شائع کردہ ’کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘ کے مطابق ڈنمارک، نیوزی لینڈ اور سنگاپور ایسے ممالک ہیں جہاں کرپشن نہ ہونے کے برابر ہے۔

’کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘ کے تحت دنیا کے ایک سو اٹھہتر ممالک کے سرکاری شعبہ جات میں رشوت ستانی کو ناپا جاتا ہے اور ان کی درجہ بندی صفر سے دس کے حساب سے کی جاتی ہے جس میں صفر سب سے کرپٹ اور دس شفاف ترین کو ظاہر کرتا ہے۔

تعارف: انتہاوں کی دنیا

سنہ 2010 کے لیے اس انڈیکس میں صومالیہ کو ایک اعشاریہ ایک جبکہ سویڈن کو نو اعشاریہ دو پوائنٹس دیے گئے۔

نامہ نگار ایکسٹریمز ورلڈ سیریز کے لیے صومالیہ کی سرحد اور سویڈن سے رپورٹنگ کریں گے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا قیام سنہ 1993 میں کرپشن ناپنے اور اس پر نظر رکھنے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ ’ کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘ جو کہ ہر سال شائع ہوتا ہے تیرہ غیرجانبدار جائزوں کے نتائج کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے۔ یہ تجزیے عالمی بینک اور اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ جیسی تنظیمیں کرتی ہیں۔ کسی ملک کو درجہ بندی میں شامل کرنے کے لیے وہاں سے کم از کم تین جائزوں کے نتائج آنا ضروری ہوتے ہیں۔

رواں برس کے انڈیکس میں جن ممالک میں 2009 کی نسبت ابتری دکھائی دی ان میں اٹلی اور امریکہ بھی شامل ہیں جبکہ ہیئٹی اور چلی ان ممالک میں سے ہیں جہاں کرپشن میں کچھ کمی ہوئی۔

(آپشنل لنک اگر آپ اپنے قارئین سے میسج بورڈ کے ذریعے یہ پوچھ رہے ہیں کہ ’کیا آپ کو اپنی عام زندگی میں کرپشن سے واسطہ پڑتا ہے‘ اور جہاں آپ رہتے ہیں وہاں رشوت اور تحفے میں کیا فرق ہے؟)