انتہاؤں کی دنیا: جرائم

انتہاؤں کی دنیا کے چوتھے حصے کا موضوع ہے جرائم۔

دنیا بھر میں قریباً ایک کروڑ افراد اس وقت جیلوں میں قید ہیں اور ان میں سے نصف امریکہ، چین اور روس میں پابندِ سلاسل ہیں۔

ورلڈ پرزن پاپولیشن لسٹ 2009 کے مطابق امریکہ میں ہر ایک لاکھ افراد میں سے سات سو چھپن افراد کو جیل بھیجا جاتا ہے جبکہ دنیا میں یہ شرح ایک سو پینتالیس افراد فی ایک لاکھ ہے۔

اس کے مقابلے میں ایک دوسری انتہا لختنسٹائن ہے جہاں سنہ 2008 میں کل سات افراد جیل میں تھے تاہم اس کے کچھ قیدی آسٹرین جیلوں میں بھی تھے۔ آسٹریا جہاں خود ہر ایک لاکھ افراد میں صرف بیس جیل میں قید ہیں۔

تعارف: انتہاؤں کی دنیا

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے جرائم و منشیات نے دنیا کے ایک سو اٹھانوے ممالک میں ہونے والے قتل کے اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ان ممالک کے نظامِ انصاف سے حاصل کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق وسطی اور جنوبی امریکی ریاستوں میں قتلِ عمد اور قتلِ خطا کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ہونڈورس میں ایک لاکھ آبادی میں قتل کی شرح قریباً ستّر ہے جبکہ جمیکا میں یہی شرح انسٹھ اعشاریہ پانچ ہے۔

اس کے برعکس آئس لینڈ اور موناکو میں سنہ 2008 میں یہ شرح صفر تھی جبکہ انگلینڈ اور ویلز میں ایک اعشاریہ دو اور امریکہ میں پانچ اعشاریہ دو رہی۔

ایک مشاورتی کمپنی مرسر کی جانب سے معیارِ زندگی کے سلسلے میں کیے گئے سروے کے مطابق لگزمبرگ ذاتی تحفظ کے معاملے میں سرِفہرست ہے جبکہ بغداد دنیا کا سب سے غیر محفوظ شہر ہے۔

اس سروے میں دو سو پندرہ شہروں کا جائزہ لیا گیا اور اس کے دوران شرحِ جرائم اور اندرونی استحکام کو مدِ نظر رکھا گیا۔