انتہاؤں کی دنیا: گرمی/سردی

انتہاؤں کی دنیا ٹی وی، ریڈیو اور آن لائن کوریج پر مشتمل بی بی سی کا ایک نیا سیزن ہے جس میں ان عالمی مسائل کا تجزیہ کیا جائے گا جو دنیا کو تقسیم کرتے ہیں۔

آئندہ چند ماہ کے دوران بی بی سی نیوز کے نامہ نگار بچوں کی تعلیم اور دنیا کے مختلف علاقوں میں جرائم سے نمٹنے کے طریقوں جیسے موضوعات یا ’تھیمز‘ کا جائزہ لیں گے۔

پہلے تھیم گرمی/سردی کے لیے بی بی سی نیوز کے نمائندے ایڈم مائنوٹ روس کے سائبیرین خطے میں واقع گاؤں اوئمیاکون کا دورہ کریں گے۔ یہ دنیا کی سب سے سرد آباد جگہ ہے۔

اوئمیاکون میں جنوری کے مہینے میں اوسط درجۂ حرارت منفی چھیالیس درجہ سنٹی گریڈ ہوتا ہے اور یہاں فراسٹ بائٹ ایک مستقل مسئلہ ہے۔ تاہم یہ علاقہ سونے اور ہیروں کے ذخائر سے مالامال ہے اور روس اب دنیا کے ان چند بڑے ممالک میں سے ہے جہاں ہیرے نکالے جاتے ہیں۔

تعارف: انتہاوں کی دنیا

دنیا میں ریکارڈ کیا جانے والا سب سے زیادہ سرد درجہ حرارت منفی نواسی اعشاریہ دو سنٹی گریڈ ہے جو اکیس جولائی سنہ 1983 کو انٹارٹیکا کے ووسٹوک سٹیشن پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

برطانیہ میں ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ سردی فروری سنہ 1895 کو سکاٹ لینڈ کے علاقے ایبرڈین شائر کے مقام بریمر پر پڑی تھی جب وہاں کا درجہ حرارت منفی ستائیس اعشاریہ دو سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ جبکہ ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ گرمی اگست سنہ 2003 میں کینٹ کاؤنٹی کے مقام فیورشیم میں پڑی جب وہاں کا درجہ حرارت اڑتیس اعشاریہ پانچ سنٹی گریڈ تک جا پہنچا۔

دنیا کا سب سے گرم مقام ایتھوپیا کی ایک چھوٹی سی آبادی دلول کو سمجھا جاتا ہے جہاں سارے سال اوسط درجہ حرارت چونتیس اعشاریہ چار سنٹی گریڈ رہتا ہے۔

تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب دلول میں مستقل طور پر کوئی نہیں رہتا۔ یہ علاقہ بہت دوردراز ہے اور وہاں صرف اونٹوں کے قافلوں کی مدد سے پہنچا جاتا ہے جو اب بھی وہاں نمک اکٹھا کرنے کے لیے جاتے ہیں۔

لیبیا کے علاقے العزیزیہ کو باقاعدہ طور پر دنیا کا گرم ترین مقام مانا جاتا ہے جہاں ستمبر سنہ 1922 میں درجہ حرارت ستاون اعشاریہ سات سنٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا۔