ایران میں یورینیم کی کان کنی شروع

ایران جوہری پلانٹ
Image caption ایران نے کہا ہے کہ وہ اب وہ خود جوہری ایندھن بناسکتا ہے

ایران نے پہلی بار ملکی سطح پر یورینیم تیار کیا ہے جسے افزودگی کے لیے اصفحان صوبے میں واقع ایک جوہری پلانٹ میں بھیج دیا گیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اتوار سے وہ پہلی بار ملک میں تیار کردہ یورینیم کا استعمال کرے گا۔

اس سے قبل ایران جنوبی افریقہ میں تیار ہونے والے یورینیم کا استعمال کرتا رہا ہے جو اس نے سنہ انیس سو ستر میں وہاں سے برآمد کیا تھا۔

لیکن اب ایران کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے اندر موجود ذخائر سے حاصل کردہ یورینیم کا استعمال کرے گا۔

ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالیحی نے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب ایران سوموار سے جنیوا میں شروع ہونے والے ان مذاکرات میں حصہ لے گا جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کریں گے۔

مذاکرات کی قیادت یورپی یونین کی سربراہ لیڈی کیتھرین ایشٹن کریں گی۔

علی اکبر صالیحی نے سرکاری ٹی وی پر دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’صوبے بندار عباس کی گیچن کان سے نکالا گئے یورینیم کی پہلی کھیپ تیار کی گئی ہے۔ یورینیم کی اس کھیپ کو اصفحان میں واقع جوہری پلانٹ میں اس لیے بھیجا گیا ہے کیونکہ یہاں اس خام یورینیم کو یو ایف 6 میں تبدیل کردیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اب خود جوہری ایندھن تیار کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ممالک کو ہمیشہ یہ لگتا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام جوہری ایندھن نہ ہونے کے سبب خطرے میں پڑ سکتا ہے لیکن اب ایران نے ثابت کردیا ہے کہ وہ خود جوہری ایندھن بنا سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ایران سے کہا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی مذاکرات میں وہ نیک نیتی کے ساتھ حصہ لے اور اقوام متحدہ کی طرف سے ماضی میں لگائی جانے والی پابندیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لے کہ سفارتی سطح پر تنہائی کیا معنی رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام کو خطرہ تصور کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران دراصل جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے یہ سب کر رہا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام سویلین مقاصد کے لیے ہے۔

ایران بار بار کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن مغربی ملکوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کا استمعال بم بنانے کے لیے کرسکتا ہے۔

امریکہ نے حال ہی میں یہ کہا ہے کہ ایران مستقل میں یورینیم کی افزودگی کرے گی۔

تاہم ہلیری کلنٹن کے مطابق ایران اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کا اعتماد اُس حد تک حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جہاں بین الاقوامی برادری ایران کو یورینیم کی افزودگی کرنے کی اجازت دے۔

اسرائیل کا اصرار ہے کہ ایران کو یورینیم افزودگی کی کبھی اجازت نہیں دی جانے چاہیے۔

اسی بارے میں