’صورتحال بے قابو ہوتی جا رہی ہے‘

شمالی کوریا سے جانب سے کیے گئے حملے کے بعد کی فوٹو
Image caption شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر حال میں حملہ کیا تھا

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اسے اشتعال دلانے کا کام نہ کرے اور نہ ہی متنازعہ ساحلی سرحد پر فوجی مشقیں شروع کرے۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی کوریا کی جانب سے اکسانے والی باتیں خطے میں کشیدگی کا سبب بن رہی ہیں۔

جنوبی کوریا کے نئے وزیر دفاع کم کوان جن نے حال ہی میں کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اس پر کوئی حملہ کیا تو اس کے جواب میں فضائی حملہ کیا جائے گا۔

اس کے جواب میں شمالی کوریا نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا اکسانے والی باتیں نہ کرے۔

بیان کے مطابق’ کٹھ پتلی گروپ کی ہیجان میں مبتلا حرکات اور اشتعال انگیزی کی وجہ سے جزیرہ نما کوریا میں سیاسی صورتحال بے قابو ہوتی جا رہی ہے۔‘

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا اسے جس طرح اکسا رہا ہے اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حال ہی میں شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر گولہ باری کی تھی جس میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

گولہ باری کے تبادلے کے واقعے کے بعد جنوبی کوریا کے صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر سیول کو مزید اشتعال دلایا گیا تو وہ شمالی کوریا کے خلاف میزائل حملے بھی کر سکتا ہے۔

چین کے وزیر اعظم وین نے اس حملے بعد تحمل سے کام لینے کی بات کہی تھی۔

شمالی کوریا کی گولہ باری کا نشانہ یون پیونگ نامی جزیرہ بنا تھا جہاں جنوبی کوریا کے دو فوجی اور دو عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے میں سولہ فوجی اور تین شہری زخمی بھی ہوئے تھے۔

حملے کے بعد شمالی کوریا کی حکومت نے ان علاقوں میں سکیورٹی سخت کردی تھی۔

گزشتہ جمعہ کو وزیر دفاع کم کوان جن نے کہا تھا ’ اگر شمالی کوریا نے دوبارہ اشتعال دلایا تو ہم اس پر حملہ کرنے کے لیے جنگی جہازوں کا استمعال کریں گے۔‘

گولہ باری کے واقعے کے بعد جنوبی کوریا اور امریکہ نے مشترکہ جنگی مشقیں کی تھیں جس میں امریکی طیارہ بردار جنگی جہاز نے بھی حصہ لیا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ان مشترکہ جنگی مشقوں سے یہ ظاہر ہوگا کہ اس کے جنوبی کوریا کے ساتھ روابط کس قدر مضبوط ہیں اور وہ خطے میں استحکام کے معاملے کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہے۔

اس سے پہلے امریکہ کے صدر براک اوباما نے جنوبی کوریا کے جزیرے پر شمالی کوریا کی گولہ باری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ جنوبی کوریا کا دفاع کرے گا۔

.

اسی بارے میں