شدت پسندوں کو زیادہ امداد سعودیوں سے

Image caption ان دستاویزات کے مطابق امریکہ کو شدت پسند تنظیموں کی مالی امداد کو روکنے سے متعلق اپنی کوششوں میں دشواری کا سامنا ہے۔

وکی لیکس نامی ویب سائٹ کو ملنے والی امریکی سفارتی خط و کتابت کے مطابق القاعدہ، طالبان، لشکر طیبہ اور حماس جیسی اسلامی شدت پسند تنظیموں کو سب سے زیادہ رقوم سعودی عرب کے مخیر لوگوں سے مل رہی ہیں۔

ان دستاویزات کے مطابق امریکہ کو شدت پسند تنظیموں کی مالی امداد کو روکنے سے متعلق اپنی کوششوں میں دشواری کا سامنا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی جانب سے گزشتہ برس لکھے گئے ایک میمو میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے مخیر حضرات القاعدہ، طالبان، لشکر طیبہ اور حماس جیسی اسلامی شدت پسند تنظیموں کی سب سے زیادہ مالی مدد کر رہے ہیں۔

اس خط و کتابت میں جن دوسرے ممالک پر نکتہ چینی کی گئی ہے ان میں قطر اور کویت شامل ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دھشت گردوں کی مالی امداد کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔

ان دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ مشرق وسطی میں مخیر لوگوں اور گروپوں سے جب چاہے رقوم حاصل کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں