وکی لیکس: امریکی مفادات کی فہرست جاری

وکی لیکس نے دنیا بھر میں اہم تنصیبات کی ایک ایسی فہرست جاری کی ہے جنہیں امریکی اپنی قومی سلامتی کے لیے اہم قرار دیتا ہے۔

فروری سن دو ہزار نو کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دنیا بھر میں اپنے سفارتخانوں سے کہا تھا کہ وہ تمام ایسی تنصیبات کی فہرست تیار کریں جن کے متاثر ہونے سے امریکی قومی سلامتی کو نقصان پہنچتا ہو۔

امریکی مفادات کی فہرست

امریکی سفارتی عملے کو ایسی تمام تنصیبات کو فہرست میں شامل کرنے کو کہا گیا تھا جن کے متاثر ہونے سے صحتِ عامہ، معاشی استحکام اور امریکی قومی سلامتی کو زک پہنچتی ہو۔ اس فہرست میں پائپ لائنیں اور ٹرانسپورٹ کے جنکشن بھی شامل ہیں۔

بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کے مطابق یہ اب تک وکی لیکس کی طرف سے جانے والی سب سے متنازع دستاویز ہے۔

وکی لیکس کی طرف سے جاری کی جانے والی کیبل میں امریکی قومی سلامتی کی جو تعریف دی گئی ہے وہ بہت وسیع ہے اور اس میں ہر طرح کی تنصیبات شامل ہیں۔

دیگر تنصیبات کے علاوہ کانگو میں واقع ایک کوبالٹ کی کان، آسٹریلیا میں واقع سانپ کے کاٹے کے علاج کی دوا کی فیکٹری اور ڈنمارک میں ایک انسولین پلانٹ کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اگر امریکہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے تو اس فہرست کو اہم تنصیبات اور سہولتوں کی ایک ایسی ڈائریکٹری کہا جا سکتا ہے جو امریکہ کے لیے بہت اہم تصور کی جاتی ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق اسی لیے کسی کو برطانوی اخبار دی ٹائمز کی شہ سرخی پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے جس نے اس فہرست کو امریکہ مخالف دہشت گردوں کے اہداف کہا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق اخبار دی ٹائمز کی شہ سرخی سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ واقعی وہ اہداف ہیں جن کو دہشت گرد نشانہ بنا سکتے ہیں؟

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ سکیورٹی کی کوئی بڑی خلاف ورزی نہیں ہے لیکن کئی ملک اسے ایک غیر خوش آئند پیش رفت سمجھیں گے۔ اس سے اب یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ وکی لیکس اس دستاویز کو جاری کر کے کیا مثبت کام کرنا چاہ رہا تھا۔

برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ میلکم رفکنڈ نے اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ وکی لیکس کی انتظامیہ مجرمانہ حد تک غیر ذمہ دار ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسی معلومات ہیں جن کو جاننے میں دہشت گردوں کو بہت دلچسپی ہو گی۔

اسی بارے میں