افغانستان: مزاحمت کی حمایت میں اضافہ

Image caption 2010 افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے سب سے خونی سال ثابت ہوا ہے

ایک جائزے کے مطابق سنہ 2005 کے مقابلے میں اب زیادہ افغان آبادی غیر ملکی افواج پر حملوں کے حق میں ہے۔

اس سروے کے مطابق اب ستائیس فیصد عوام کا خیال ہے کہ نیٹو اور امریکی افواج پر حملے جائز ہیں تاہم چونسٹھ فیصد اب بھی اس کے مخالف ہیں۔

بی بی سی اور دیگر نیوز گروپس کے لیے کیے گئے اس سروے میں سترہ سو کے قریب افغان باشندوں کی رائے لی گئی جن کے خیال میں ملکی معیشت ان کے اس وقت افغانستان کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔

سروے کے مطابق افغان عوام اب بھی طالبان کو پسند نہیں کرتے تاہم تہتر فیصد عوام ان سے بات چیت کے ذریعے تصفیے کے حق میں ہیں۔ اس کے برعکس تیئیس فیصد عوام اب بھی طالبان سے جنگ کے حق میں ہیں اور گزشتہ چند برس سے یہ شرح مستحکم رہی ہے۔

یہ قومی سروے افغانستان کے ’سنٹر فار سوشیو اکنامک اینڈ اوپینئن ریسرچ‘ نے انتیس اکتوبر سے تیرہ نومبر 2010 کے درمیان کیا۔

اس کے مطابق رشوت ستانی کے الزامات اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے صدارتی انتخاب پر تنقید کے باوجود افغان صدر حامد کرزئی کی حمایت میں فرق نہیں پڑا ہے۔ باسٹھ فیصد افراد نے افغان رہنماؤں کو اچھی یا بہترین قرار دیا جبکہ سنہ 2009 میں یہ شرح بہّتر اور 2008 میں باون فیصد تھی۔

اس سروے کے مطابق افغان باشندے گزشتہ برس کے مقابلے میں مستقبل کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں اور اس برس آنے والے سالوں میں بہتر زندگی کی امید کرنے والے افغانوں کی شرح پینسٹھ فیصد رہی جبکہ گزشتہ برس یہ شرح اکہتر فیصد تھی۔

ملک کے صحیح سمت میں جانے کے سوال پر بھی افغان باشندے مایوسی کا شکار دکھائی دیے اورگزشتہ برس کے ستّر فیصد کے مقابلے میں اس برس انسٹھ فیصد افغان عوام کے نزدیک ملک صحیح سمت میں گامزن ہے۔

رواں سال افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے سب سے خونی سال ثابت ہوا ہے جبکہ ساتھ ساتھ شہری ہلاکتوں کی شرح بھی زیادہ رہی ہے۔

سروے کے دوران تشدد میں اضافے کے لیے امریکی افواج کو ذمہ دار سمجھنے والے افراد کی شرح میں نو فیصد کا اضافہ ہوا اور اب یہ شرح چودہ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے برعکس طالبان کو ہلاکتوں کا ذمہ دار سمجھنے والے افراد کی شرح بیالیس فیصد سے کم ہو کر تینتیس فیصد رہ گئی ہے۔

تاہم افغانستان میں غیر ملکی افواج کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی موجود ہے اور تریسٹھ فیصد عوام افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی اور چوّن فیصد نیٹو اور ایساف کے حامی ہیں۔ اس کے برعکس صرف گیارہ فیصد عوام طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔

اسی بارے میں