بنگلہ دیشی جہاز پر قزاقوں کا ’قبضہ‘

Image caption بحری جہاز سنگاپور سے نہر سوئز کے راستے یورپ جا رہا تھا

بنگلہ دیشی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بحری قزاقوں نے جنوبی بھارت کے قریب ایک بنگلہ دیشی پرچم بردار بحری جہاز پر قبضہ کر لیا ہے۔

قزاقوں نے طویل تعاقب کے بعد بھارتی ساحل سے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جزائر لشکدیپ کے قریب ایم وی جہان مونی نامی جہاز پر حملہ کیا۔

یہ جہاز جس پر پچیس بنگلہ دیشی باشندوں پر مشتمل عملہ سوار ہے، سنگاپور سے نہر سوئز کے راستے یورپ جا رہا تھا۔

بنگلہ دیشی بحریہ کے رئر ایڈمرل بازل الرحمان کے مطابق حملے کے بعد جہاز کے عملے نے ہنگامی الارم بجائے۔

ان کے مطابق ’بنگلہ دیش کے مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر اڑتیس منٹ پر جہاز سے ہمارا رابطہ اس وقت ختم ہوگیا جب بحری قزاقوں نے دوسری مرتبہ اس پر حملہ کیا۔ ہمیں شبہ ہے کہ جہاز قزاقوں کے قبضے میں ہے‘۔

رئر ایڈمرل بازل الرحمان کا کہنا ہے کہ ’قزاقوں نے ایک گھنٹے تک بحری جہاز کا تعاقب کیا اور اب تمام علامات یہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے‘۔

صومالی قزاق اپنے ملک سے دور جا کر کارروائیاں تو کرتے رہے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے بھارتی حدود کے اتنے قریب آ کر کارروائی کی ہے۔

بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں بھارتی سمندی محافظوں اور دبئی اور سنگاپور میں انسدادِ قزاقی کے محکمے سے مدد مانگی ہے۔خیال رہے کہ کئی ممالک بحرِ ہند اور خلیج عدن میں بحری قزاقی سے نمٹنے کے لیے سرگرم ہیں۔

اسی بارے میں