کونکورڈ حادثہ: ’امریکی کمپنی ذمہ دار‘

کونکورڈ
Image caption دس سال پہلے کے اس حادثے میں 113 افراد ہلاک ہوئے تھے

فرانس کی ایک عدالت نے کہا ہے کہ پیرس کے قریب دس سال پہلے کا خوفناک کونکورڈ حادثہ امریکی فضائی کمپنی کونٹینینٹل کی عفلت کا نتیجہ تھا۔

عدالت کے مطابق کونٹینینٹل کے ایک ڈی سی ٹین طیارے کی مرمت میں استعمال ہونے والے طیطانیم کا حصہ رن وے پر گرگیا تھا جس کی وجہ سے پھر کونکورڈ کا ایک ٹائر پھٹا اور اس کے تیل کے ٹینک میں دھماکہ ہوا۔

ائر فرانس کی پرواز پر کنکورڈ کا یہ طیارہ جولائی 2000 کو پیرس کے جارلزدے گول ہوائی اڈے سے روانگی کے منٹوں بعد تباہ ہو گیا تھا جب ا س میں آگ لگ گئی۔ حادثے میں 113 افراد ہلاک ہوئے۔ عدالت کے مطابق کونٹینینٹل کے ڈی سی ٹین طیارے کی مرمت میں طیطانیم نہیں بلکہ ایلو مینیم کے پرزے استعمال کیے جانے چاہیے تھے کیونکہ طیطانیم سے ٹائروں کو نقصان پہنچ سکتا تھا جکہ ایلو مینیم نسبتاً نرم مواد ہے۔

تاہم کوٹینینٹل کا کہنا ہے کہ اس حادثے کا اس سے تعلق نہیں ہے کیونکہ طیارے میں پہلے ہی آگ لگ چکی تھی۔

عدالت نے فرانس کی فضائی نظام کے تین اہلکاروں کو بری کرتے ہوئے کونٹینٹل کو اس حاثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس پر دو لاکھ یوو کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

امریکی فضائی کمپنی کونٹینینٹل نے فرانسیسی عدالت کے فیصلے پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ کمپنی کے ایک وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت کا یہ فیصلہ قانون پر نہیں بلکہ قومیت پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فرانس کے حکام نے ارادہ کر رکھا تھا کہ اس حادثے کے لیے نہ فرانسیسی حکام اور نہ ہی سرکاری ائرلائن ائر فراسن کو ذمہ دار ٹہرایا جائے حالانکہ اس کونکورڈ کی نگرانی ان کی ہی تھی۔

وکیل کے مطابق کمپنی اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔

اسی بارے میں