’شارک حملوں کا الزام مضحکہ خیز ہے‘

فائل فوٹو، تفریح مقام شرم الشیخ
Image caption گزشتہ اتوار کو شارک مچھلی کے حملے میں ایک عمر رسیدہ خاتون ہلاک ہو گئی تھیں

اسرائیلی حکام نے مصر کے ان الزامات کو مضحکہ خیز کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ اس کے ساحلی تفریحی مقام شرم الشیخ پر شارک مچھلی کے حملوں میں خفیہ ایجنسی موساد ملوث ہے۔

مصر کے مقامی گورنر نے اطلاعات کے مطابق کہا ہے کہ افواہیں ہیں کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی مصر میں سیاحت کو نقصان پہچنانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس ضمن میں شارک مچھلی کا حملہ خارج از مکان نہیں ہے۔

مصر میں اس وقت افواہیں گرش کر رہی ہیں کہ شرم الشیخ میں شارک مچھلی کے حملوں میں اسرائیل ملوث ہے۔

مصر کی ایک سرکاری نیوز ویب سائٹ پر جنوبی سنائی کے گورنر محمد عبدالفادل شوشاہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ مصر میں سیاحت کو نقصان پہچنانے لیے سمندر میں اسرائیل کی جانب سے جان لیوا شارک مچھلی کے بارے میں جو کہا جا رہا ہے وہ خارج از امکان نہیں ہے، لیکن اس کی تصدیق میں وقت لگے گا۔‘

اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے خیال میں گورنر نے کئی بار ’ جاز‘ فلم دیکھی ہے، جس کی وجہ سے وہ حقائق اور فکشن کو کنفیوز کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اتوار کو شرم الشیخ میں شارک مچھلی کے حملے میں ایک عمر رسیدہ خاتون ہلاک ہو گئی تھیں۔ اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں شارک مچھلیوں کے حملوں میں کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں مفروضے پہلے ہی بڑے مقبول ہیں اور اکثر غیر متوقع رائے دی جاتی ہے کہ عرب دنیا کے مسائل کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد ہے۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ کے اہلکار اگل پالمور کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ مصر میں بھی بحیرہ احمر پر آنے والے سیاحوں کو شارک مچھلیوں کے حملوں سے خبردار کیا جانا چاہیے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے شہریوں میں بھی شرم الشیخ ایک مقبول سیاحتی مقام ہے۔

اسی بارے میں