جولین اسانش کے وارنٹ گرفتاری

اسانش
Image caption خیال ہے کہ اسانش برطانیہ کے جنوب مشرقی علاقے میں روپوش ہیں

ولی لیکس کے بانی جولین اسانش کے یورپی وارنٹ گرفتاری موصول ہونے کے بعد برطانوی پولیس ان سے پوچھ گچھ کی تیاری کر رہی ہے۔

مسٹر اسانش جن کے بارے میں خیال ہے وہ برطانیہ میں روپوش ہیں سویڈن میں جنسی زیادتی کے ایک مقدمے میں مطلوب ہیں۔ جولین اسانش اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کیس سیاسی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔

لندن میں جولین اسانش کے وکیل مارک سٹیفنز نے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا اور وہ رضاکارانہ طور پر ان کی پولیس سے ملاقات کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ برطانیہ کو جولین اسانش کی گرفتاری کے یوروپی وارنٹ پیر کی دوپہر کو موصول ہو گئے۔

مسٹر اسانش کی گرفتاری کے یورپی وارنٹ سویڈن کی اعلٰی عدالت کے اس فیصلے کے بعد جاری کیے گئے ہیں جس کے تحت ان کی گرفتاری کے خلاف درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

سویڈن کی عدالت جنسی زیادتی کے معاملے میں جولین اسانش سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے ۔سویڈن میں انہیں دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام کا سامنا ہے۔اسانش اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے دونوں خواتین کی مرضی سے ہی ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا تھا۔

بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ اگر پولیس انہیں گرفتار کر لیتی ہے تو انہیں گرفتاری کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد انہیں سویڈن کے حوالے کرنے کا عمل شروع ہوگا۔

پیر کے روز سوئٹزر لینڈ کے پوسٹ آفس بینک ’پوسٹ فنانس‘ نے جولین اسانش کے کھاتے منجمد کر دیئے تھے۔

وکی لیکس کا کہنا ہے کہ جو کھاتے منجمد کیے گئے ہیں ان میں ایک ڈیفینس فنڈ اور اکتیس ہزار یورو کے ذاتی اثاثے شامل ہیں۔

پوسٹ فناننس نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ اکاؤنٹ کھولتے وقت مسٹر اسانش نے غلط اطلاع فراہم کی تھی کہ ان کے پاس سوئٹزر لینڈ کی رہائش ہے۔ بینک کا کہنا تھا کہ اسانج سوئٹزر لینڈ میں اپنی رہائش کا ثبوت پیش نہیں کر پائے اس طرح وہ بینک کے کسٹمر ریلیشن شپ کے معیار پر پورے نہیں اترتے اور بینک کو ان کے کھاتے بند کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

پوسٹ فنانس کی جانب سے وکی لیکس کے اکاؤنٹس بند کرنے کا یہ اقدام گزشتہ ہفتے خفیہ امریکی سفارتی دستاویز شائع کرنے کے بعد وکی لیکس کے لیے ایک تازہ جھٹکا ہے۔

وکی لیکس نے سینکڑوں خفیہ سفارتی دستاویز جاری کر کے امریکہ کو ناراض کر دیا ہے۔

اسی بارے میں