اسرائیل کو منانا ترک کیا

یہودی بستیوں کی تعمیر(فائل فوٹو)
Image caption اسرائیل کی طرف سے تعمیر پر پابندی کے خاتمے کے بعد مذاکرات رک گئے تھے

امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی خاطر اسرائیل کو نئی بستیوں کی تعمیر سے باز رکھنے کے لیے شروع کی گئی کوششیں ترک کر رہا ہے۔

امریکہ چاہتا تھا کہ اسرائیل متنازعہ بستیوں کی تعمیر روک دے۔ فسلطینیوں نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے بستیوں کی تعمیر روکنے کی شرط رکھی تھی۔

فسلطینیوں نے آخری بار ستمبر میں اس وقت اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ختم کر دیے تھے جب اسرائیل کی طرف سے غرب اردن میں نئی بسیوں کی تعمیر پر دس ماہ تک جاری رہنے والے پابندی کی مدت ختم ہو گئی تھی۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں میں تعمیر سے باز رکھنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

ستمبر میں تقریباً دو سال کے وقفے کے بعد امن مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے تھے لیکن اسرائیل کی طرف سے تعمیر پر پابندی جاری نہ رکھنے کے فیصلے کی وجہ سے یہ جلد ہی ختم ہو گئے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود براک نے کہا ہے کہ وکی لیکس پر خفیہ دستاویزات کی اشاعت کی وجہ سے امریکہ کا دھیان بٹ گیا ہے اور اس کے ساتھ بات چیت جاری نہیں رکھی جا سکتی۔ امریکی وزارتی خارجہ کے ایک ترجمان نے اس بات سے انکار کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اوباما انتظامیہ نے اسرائیل کو بستیوں کی تعمیر پر پابندی مزید نوے دن بڑھانے کے عوض بہت سی مراعات دینے کا اعلان کیا تھا جن میں سلامتی کی ضمانت اور جنگی طیاروں کا وعدہ بھی شامل تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اگر فلسطینی اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کر لیں تو وہ بستیوں کی تعمیر روک دیں گے لیکن فلسطینی انتظامیہ نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔

اسی بارے میں