’مشرقِ وسطیٰ مذاکرات بحران میں‘

یہودی بستیاں
Image caption منگل کو واشنگٹن نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو بستیوں کی تعمیر پر پابندی کی تجدید کرنے میں قائل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔

فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ مقبوضہ زمین پر بستیوں کی تعمیر روکنے سے اسرائیل کے انکار کے بعد مشرقِ وسطیٰ مذاکرات بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔

محمود عباس کے اس بیان سے محض چند گھنٹے قبل امریکہ نے تسلیم کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو نئی بستیوں کی تعمیر پر پابندیوں کی تجدید کرنے پر قائل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔

فلسطینی رہنما نے اس سال ستمبر میں غربِ اردن میں اسرائیلی تعمیر پر عائد دس ماہ کی پابندی ختم ہونے کے بعد براہِ راست مذاکرات کا عمل معطل کر دیا تھا۔

دریں اثنا امریکہ نے کہا ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات کی لیے اب دوسرے راستے تلاش کرے گا۔

اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت غربِ اردن پر سنہ انیس سو سڑسٹھ سے قبضہ کیا ہوگای ہے اور وہاں ایک سو کے قریب بستیوں میں پانچ لاکھ یہودی آباد ہیں۔ یہ بستیوں عالمی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں لیکن اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرتا۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات دو سال تعطل کا شکار رہنے کے بعد اس برس ستمبر میں واشنگٹن میں شروع ہوئے تھے لیکن صرف دو ہفتوں کے بعد بات چیت اسرائیل کی طرف سے بستیوں کی تعمیر شروع کرنے کے نتیجے میں ختم ہوگئی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں بات کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا ’اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرات بحران میں ہیں۔‘

منگل کو واشنگٹن نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو بستیوں کی تعمیر پر پابندی کی تجدید کرنے میں قائل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے لیکن امریکہ کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ امن کے لیے امریکی کوششیں ختم ہو جائیں گی۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نتین یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اسرائیل فلسطین کے ساتھ غیر مشروط براہِ راست امن مذاکرات کا پابند ہے اور یہ کہ مشرقی یروشلم سمیت تمام معاملات (مذاکرات کی) میز پر ہیں۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ ونگفیلڈ ہیز کاکہنا ہے کئی ہفتوں کی کوشش کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم غربِ اردن میں بستیوں کی تعمیر پر اپنی کمزور مخلوط حکومت کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

بی بی س کے نامہ نگارروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بہت کوشش کی کہ نتینیاہو کی کابینہ میں دائیں بازو کے افراد کو قائل کرے کہ امن کے لیے بستیوں کی تعمیر روکنا خود ان کے مفاد میں بھی ہے۔ امریکہ نے بطور ترغیب اسرائیل کو بیس ایف پینتیس طیارے بھی مفت دینے کی پیشکش کی لیکن وہ بھی ناکام ہوگئی۔

اسی بارے میں