مذاہب میں ہم آہنگی کے لیے ’مشن قرطبہ‘

امام رؤف اور ان کی اہلیہ ڈیزی خان

نیو یارک میں گراؤنڈ زیرو(نو گیارہ کے حملوں کا مقام) کے قریب مسجد بنانے کا متنازعہ منصوبہ پیش کرنے والے امام فیصل عبدالرؤف نے بی بی سی کی عالمی سروس سے ایک انٹرویو میں مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان فاصلے کم کرنے میں درپیش مشکلات کے بارے میں بات کی۔انہوں نے بتایا کہ اس کام میں انہیں کیسے دھمکیوں کا بھی سامنا رہا۔

بی بی سی کی کیری گریس نے ان سے مذہبی معاملات میں لوگوں میں برداشت پیدا کرنے کے لیے شروع کیے جانے والے منصوبے کے بارے میں بھی سوال کیا۔

بی بی سی کی عالمی سروس کی طرف سے کیے گئے اس انٹرویو سے چند اقتسابات۔

سوال: کیا آپ اس تنازعے کے دوران خوفزدہ ہوئے؟

جواب: کچھ موقع ایسے تھے، ہاں کچھ موقع ایسے تھے جب میں نے اپنے آپ کو دباؤ میں محسوس کیا کیونکہ میر زندگی میں ایسا کچھ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ہاں میں(خوف زدہ) تھا۔

سوال: خوف زدہ جسمانی طور پر یا اخلاقی طور پر؟

جواب: میرے خلاف ایک دھمکی دی گئی تھی جس کے بارے میں مقامی پولیس نے آ کر مجھے آگاہ کیا تھا۔اس لیے میں اپنی حفاظت کے بارے میں محتاط تھا۔

میں اس کے لیے بھی خوف زدہ تھا جو ہم پر بِیت رہی تھی، جو امریکہ کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اور میرے خیال میں بہت سے امریکیوں نے بھی ایسا محسوس کیا۔

اچھی بات یہ تھی کہ لوگ جنہوں نے واقعی ہماری مدد کی انہوں نے اس بنیاد پر کی کہ ’یہی امریکہ کا مطلب ہے۔ امریکہ مذہبی آزادی دیتا ہے، ہم انہی اصولوں پر وجود میں آئے تھے۔ یہ ہر مذہب کے ماننے والوں کا آئینی حق ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کر سکیں۔‘ یہ وہ دلائل ہیں جو میئر بلومبرگ، ہمارے صدر اوباما اور ذرائع ابلاغ کے بہت سے لوگوں کی طرف سے سامنے آئے جنہوں نے کہا کہ ’ٹھیک ہے اگر دو بلاک بہت قریب ہیں تو پھر مناسب فاصلہ کیا ہے۔۔۔چار بلاک، چھ بلاک یا سات بلاک؟‘

سوال: اسلامی مرکز کا منصوبہ اس وقت کس مقام پر ہے؟ کیا آپ اپنے پروگرام کے مطابق آگے بڑھیں گے؟

جواب: بالکل، ہمارا خواب زندہ ہے اور ہم منصوبے کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ لیکن میرا کام ایمان اور عقائد کے معاملات اور بحث کا دھارا اپنے حق میں موڑنے کے اہم موضوع پر توجہ دینا ہے۔ ہم بحیثیت اعتدال پسند افراد، دنیا کے پچانوے لوگوں کی اعتدال پسند آوازیں جو امن اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کی خوشحالی چاہتی ہیں

یہ کیسے کر سکتی ہیں۔اسی مقصد کے لیے ہم اس ہفتے ’مشن قرطبہ‘ شروع کر رہے ہیں جس میں ہم ان لوگوں سے رجوع کریں گے جنہوں نے بھرپور انداز میں ہماری حمایت کی تھی اور ہم دیکھیں گے کہ کس طرح بحث میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

سوال: کیا اب آپ کو کبھی خیال آیا کہ آپ نے کچھ ایسا کہا جو آپ کو نہیں کہنا چاہیے تھا؟

جواب: مسلمانوں اور مغرب کے درمیان فاصلے کم کرنا مشکل کام ہے۔ یہ بہت مشکل ہے، چیلنج ہے۔ میں ظاہر ہے غلطی سے پاک نہیں: ممکن ہے میں نے کچھ غلطیاں کی ہوں جن کے لیے میں معافی چاہتا ہوں۔ لیکن میری نیت صاف ہے۔ میرا ماضی بالکل صاف ہے۔ میں نے اپنے آپ کو امن اور مختلف مذاہب کے لوگوں میں صلح پیدا کرنے کے لیے وقف کر دیا ہے۔

بالکل میں نے کچھ ایس باتیں کی ہوں گی جو مجھے مختلف انداز میں کرنی چاہیں تھیں۔

سوال: آپ جذباتی معلوم ہوتے ہیں۔ آپ مثالی نتائج حاصل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ کو سن کر محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنے خواب کی تکمیل کے لیے ہر قدم چلنے پر تیار ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی ناکامی کا تصور کیا ہے جہاں آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ ’میں یہ نہیں کر سکتا، میں کام چھوڑ دوں گا‘ کیا آپ پر کبھی ایسا لمحہ آیا؟

جواب: میں نے اپنے آپ سے عہد کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ میرا مشن ہے۔ یہ میری زندگی کا مقصد ہے۔ نو گیارہ کے بعد میری زندگی میرے کام کا ہر پہلو متحرک ہوا۔ مجھے یہ لازمی کرنا ہے۔ مجھے یہ کرنا ہی ہے۔

سوال: اسلامی مرکز کے واقعے سے بحث کو اپنے حق میں موڑنے کی آپ کی کوششوں کو فائدہ پہنچا یا آپ پیچھے چلے گئے؟

جواب: میرے خیال میں بات آگے بڑھی ہے۔اس نے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کیا۔ اس نے لوگوں کو ہماری باتوں کو آئین کی روشنی میں دیکھنے پر مجور کیا۔ لوگوں کا آ کر ہمیں بتانا کہ یہ واقعہ ان کے لیے کیامعنی رکھتا ہے حیرت انگیز تھا۔ میرے ایک دوست نے جو یہودی پادری ہے آ کر مجھ سے کہا کہ ’تمہیں معلوم ہے کہ تمارے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہمارے لیے بحیثیت یہودی بہت اہم ہے کیونکہ ہم ہمیشہ اقلیت رہے ہیں اور اگر اس ملک میں بحیثیت اقلیت تمہارے ساتھ یہ ہو سکتا تو یہ ہمارے لیے بھی خطرے کی بات ہے۔‘ اس کہانی نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کر لی تھی۔

اسی بارے میں