روانڈا نسل کشی کی یادداشتیں منظرِعام پر

Image caption روانڈا قتلِ عام میں آٹھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے

افریقی ملک روانڈا کے دارالحکومت کیگالی میں ملک میں ہونے والی نسل کشی سے متعلق یادداشتیں منظرِ عام پر لائی گئی ہیں۔

یہ ہزاروں دستاویزات، تصاویر اور آڈیو ویژوئل ریکارڈنگز سنہ 1994 میں ہونے والے نسل کش فسادات کے ذمہ داران، عینی شاہدین، ان میں بچ جانے والے افراد سے حاصل کی گئی ہیں۔

ان نسل کش فسادات میں ایک اندازے کے مطابق آٹھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے بیشتر کا تعلق تتسی قبائل سے تھا۔

ان یادداشتوں کو سامنے لانے کا کام روانڈا کی حکومت اور ایک ایسے برطانوی ٹرسٹ نے سرانجام دیا ہے جو انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام پر کام کرتا ہے۔

روانڈا بھر میں ان نسل کش فسادات کی یادگاریں موجود ہیں تاہم بی بی سی کے مشرقی افریقہ کے نامہ نگار ول روس کا کہنا ہے کہ یہ یادداشتیں سنہ 1994 کے واقعات کے بارے میں جاننے کا نیا طریقہ ہے۔

ان میں جی پی سی سیٹلائٹ نظام کی مدد سے ان مقامات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں نسل کشی کے واقعات پیش آئے تھے۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کوشش کا مقصد یہ ہے کہ روانڈا میں ترقیاتی سرگرمیوں اور زمینی تبدیلیوں کی وجہ سے اس قتلِ عام کے نشانات کو ہمیشہ کے لیے مٹنے سے بچایا جا سکے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب بھی یہ قتلِ عام یا نسل کشی ایک متنازعہ معاملہ ہے اور روانڈا میں اس قتلِ عام کے بارے میں حکومتی موقف کو جھٹلانا غیرقانونی ہے۔ روانڈا کے صدر کے مخالفین یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے نسل کشی سے متعلق قوانین کا استعمال کیا۔