نوبیل انعام کے سبق

نوبیل تقریب
Image caption لیو شاؤبو کی غیر موجودگی میں ان کی کرسی خالی تھی

چین اگر لیو شاؤبو کے لیے نوبیل انعام کی تقریب سے متعلق اس قدر شور نا مچاتا تو شاید دنیا بھر کا ذرائع ابلاغ اتنی بڑی تعداد میں اس تقریب کی رپورٹنگ کے لیے اوسلو نہ آتا۔

اور اگر چین نے سفارتی سطح پر اس تقریب میں شرکت نہ کرنے کے لیے طاقتور ممالک کے ساتھ کوششیں نہ کی ہوتیں تو پھر وہ ایک ایسے مقابلے ميں امریکہ اور پوروپ کے مد مقابل نہ ہوتا جس ميں اس کی جیت کبھی بھی نہیں ہوسکتی تھی۔

جیسا کہ ہوا اس تقریب کا صرف سولہ ممالک نے بائیکاٹ کیا ہے اور اس میں بھی وہ ملک جو چین پر بہت زیادہ منحصر ہیں۔

ان میں سے بعض ممالک جنہوں نے آخری موقع پر اپنے موقف میں تبدیلی کی، جیسے سربیا، تو اس نے یوروپ اور امریکہ جیسے طاقت ور ممالک کی واضح مخالفت کا اشارہ کیا۔

لیکن جب تک پوری طرح کامیابی کا امکان نہ ہو تب تک یہ کو ئی دانشمندی نہیں ہے کہ اس طرح کھلم کھلا سفارتی جنگ میں ملوث ہوا جائے۔

روس کے لیے بھی اس لڑائی میں ملوث ہونا اور اس ملک کا ساتھ دینا جس پر انسانی حقوق کے لیے نکتہ چینی ہوتی رہی ہے کوئی بہت اچھی بات نہیں تھی۔

شاید چین کو وہ کرنا چاہیے تھا جو ایران نے شیرین عبادی کے ساتھ کیا تھا جب انہیں نوبیل انعام سے نوازہ گیا تھا۔

ایران کی حکومت نے اس بات پر بہت زور دیا تھا کہ اس کی توہین کی جاری ہے۔ لیکن جب محترمہ عبادی اوسلو میں انعام لینے پہنچی تو تقریب میں ایرانی سفارت کار نے سامعین کے آگے بیٹھ کر تالیاں بجائی تھیں۔

اس عمل نے ایران کے ساتھ عوامی رشتوں کی مشکلات کو کم کرنے میں مدد کی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں پولیس نے ان پر چھاپہ مارکر سونے کے نوبیل میڈل کو اپنے قبضے میں کرلیا تھا لیکن تب تک اس سے متعلق مچنے والا شور اور عالمی بیداری پوری طرح ختم ہو چکی تھی۔

Image caption نوبیل انعام سے لیو شاؤبو کو چینی مخالفین کی فہرست میں نمایا شخصیت حاصل ہوگئی ہے۔

لیکن چین نے اس نوبیل تقریب کے تئیں جو رویہ اپنایا ہے وہ اس کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے اور علامتی طور پر خالی کرسی کا منظر تو اس کے لیے نقصان دہ رہا۔

اب تک جن حکومتوں نے نوبیل انعام کی اس قدر مخالفت کی تھی چین کبھی بھی ان سے اپنا موازنہ کرنا پسند نہیں کريگا۔اس میں نازی جرمنی، سویت یونین، برما اور مارشل لاء کے تحت پولینڈ جیسے ممالک شامل ہیں۔

نوبیل تقریب کی بعض دیگر پہلوؤں نے بھی چین کو شرمندہ ہی کیا ہے۔ جیسے بچوں کا گیت جو خود لیوشاؤبو کی ذاتی گزارش پر پیش کیا گیا تھا۔

وہ اپنی بیوی کو یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوگئے تھے کہ یہ ضرور ہو۔ نوبیل کمیٹی کے لیے بچے مستقبل کی علامت ہیں جو سیاسی کنٹرول اور پولیس کی مداخلت سے مبرا ہوتے ہیں۔

لیو شاؤبوگرچہ چین کی جیل میں قید تھے لیکن اس نوبیل تقریب میں ان کی موجودگی کا پہلو ہی چھایا رہا۔

امن کے لیے نوبیل انعام کی تقریب چینی قیادت کے لیے بڑے ہی عجیب موقع پر آئی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں اعلیٰ چینی سیاسی رہنماؤں کے درمیان آزادی اظہار کے موضوع پر بحث ہوتی رہی ہے کہ آیا اس میں کچھ مزید آزادی ہونی چاہیے یا نہیں۔

پارٹی کے اندر قدامت پسند عناصر اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ زیادہ کھلے پن ہی میخائیل گورباچوف کے سویت یونین کے زوال میں مدد گار ثابت ہوا تھا۔

اس وقت آزاد خیال معلم اور سیاست دان اس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ اظہار رائے کی زیادہ آزادی سے ملک میں کھلا پن پیدا ہوگا اور اس سے سماجی کشیدگی بھی کم ہوگی۔ لیکن اس لڑائی میں اب تک قدامت پرستوں کی ہی جیت ہوئی ہے۔

لیو شاؤبو کے متعلق سرکاری موقف یہ ہے کہ وہ انتشار پھیلانے والے ہیں اور چین نے اب تک جو بھی کامیابی حاصل کی ہے وہ انارکی پھیلاکر اسے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ بہت سے چینی شہری اس سے متفق بھی ہیں۔

لیکن یہاں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ لیوشاؤ بو کو نوبیل انعام کی تقریب میں حصہ لینے نہیں دیا گیا یہ دورست ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چین ان کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے جو خالی کرسی جیسی پالیسی پر عمل کرتے رہے ہیں۔

چین نا تو جرمنی کے ہٹلر کی پالیسی پر ہے اور نا ہی دور دور تک سویت یونین کے طرز پر۔ ہم نے ابھی وکی لیکس کے انکشافات کے بعد دیکھا ہے کہ کس طرح چین برما اور شمالی کوریا جیسے اپنے قریبی ممالک کے ساتھ ناراض تھا۔

چین کے سینیئر سول حکام بہت ہی نفیس طبیعت کے ہیں اور چین کی نئی صورت حال سے وہ اچھی طرح واقف بھی ہیں۔ چین کی خفیہ پولیس بھی اب یہ سمجھتی ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے اور اب وہ پہلے جیسا سلوک نہیں کر سکتے۔

اگر آپ چین کے مخالفین سے ملیں تواس میں سے بہت سے یہاں تک وہ جو اپنے گھروں میں قید ہیں وہ بھی یہ بتائیں گے کہ اب چیزیں بتدریج بہتر ہورہی ہیں اور آخر کار وہ اپنی نظریاتی جنگ میں کامیاب ہوں گے۔ لیو شاؤ بو کا بھی یہی خیال ہے۔

نوبیل کمیٹی پر غم غصہ کے اظہار کا جو رویہ تھا اس سے قدامت پسندوں کی پوزیشن بہتر نہیں ہوئی ہے۔ ممکن ہے کہ نوبیل انعام کی اس تقریب سے چین کی نئی نسل کی قیادت ایک سبق سیکھےگی۔ نئی قیادت کا اعلان دوہزار بارہ کے موسم خزاں میں ہونے والا ہے۔

ممکن ہے کہ لیو شاؤبو کو ابھی آنے والے دن جیل میں ہی گزارنے پڑیں لیکن امن کے نوبیل انعام کا مطلب یہ ہے کہ وہ نئی چینی قیادت کی نظر میں مخالفین کی تحریک میں وہ سب سے نمایاں شخصیت تصور کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں