سپین: اسانژ کی رہائی کے لیے مظاہرے

Image caption مظاہرین نے جولین اسانژ کی تصویر والے نقاب پہن رکھے تھے

سپین میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں جس میں ان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جولین اسانژ اس وقت لندن میں زیرِ حراست ہیں اور ان پر سویڈن میں جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

ان مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد میڈرڈ میں برطانوی سفارتخانے کے باہر جمع ہوگئے اور اسانژ کی رہائی کے لیے نعرے لگائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسانژ کی گرفتاری کے پیچھے سیاسی عوامل کارفرما ہیں۔

خیال رہے کہ وکی لیکس نے حال ہی میں امریکہ کے خفیہ سفارتی پیغامات شائع کیے ہیں جن کی اشاعت کی امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک نے شدید مذمت کی ہے۔

جولین اسانژ کی گرفتاری کے بعد ان کے حامیوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر تو احتجاج کیا گیا تھا تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ یورپ میں اس سلسلے میں لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں۔

مظاہرین نے جولین کی تصویر والے نقاب پہن رکھے تھے اور نامہ نگاروں کے مطابق کچھ مظاہرین وکی لیکس کی جانب سے افشا کیے جانے والے پیغامات سے سامنے آنے والی معلومات پر بھی مشتعل تھے۔

ان معلومات میں ایک ہسپانوی کیمرہ مین ہوزے کوسو کی ہلاکت کا معاملہ بھی شامل ہے۔ دستاویزات کے مطابق سپین پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ اس کیمرہ مین کی ہلاکت کی فوجداری تفتیش بند کر دے جو کہ بغداد میں اس وقت مارا گیا تھا جب امریکی فوج کے ایک ٹینک نے اس کے ہوٹل کے کمرے پر گولہ داغ دیا تھا۔

ان مظاہروں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ بارسلونا، ویلنشیا اور سوائے میں بھی ایسے ہی مظاہرے منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق چالیس برس تک مطلق العنان حکومت کا سامنا کرنے کے بعد ستر کی دہائی میں اس سے چھٹکارا پانے والی ہسپانوی آبادی کے لیے اظہارِ آزادی رائے کا معاملہ انتہائی حساس ہے۔

اسی بارے میں