متنازعہ پادری: ’برطانیہ آمد کو روکا جائے‘

Image caption ان کا برطانیہ میں قرآن جلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے: پادری ٹیری جونز

انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متنازعہ امریکی پادری ٹیری جونز کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگائی جائے۔

پادری جونز نے اگلے برس فروری میں برطانیہ میں کارکنوں سے اسلام کے بارے میں اپنے رائے پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

پادری ٹیری جونز کی رواں سال سانحہ نائن الیون کی برسی کے موقع پر اس وقت مذمت کی گئی جب انھوں نے قرآن کو جلانے کا اعلان کیا تھا۔

ٹیری جونز نے کہا ہے کہ فروری میں انگلش ڈیفنس لیگ کی ریلی میں ان کی موجودگی مثبت ہو گی لیکن انھوں نے تسلیم کیا کہ وہ انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف تبلیغ کریں گے۔

انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے والے گروپ ہوپ ناٹ ہیٹ نے سیکرٹری داخلہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔

تاہم وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ’ وہ عام طور پر انفرادی معاملات پر بات نہیں کرتے۔‘

انگلش ڈیفنس لیگ نے فیس بک پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ لیوٹن، بیڈفورڈ شائر میں پانچ فروری کو ’اب تک کی سب سے بڑی ریلی‘ منعقد ہو گی۔

پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ پادری جونز ’اسلام کی برائیوں کے خلاف بات کرنے کے لیے تنظیم میں شمولیت اختیار کریں گے۔‘

امریکہ میں ’ڈو ورلڈ آؤٹ ریچ سینٹر‘ کے پادری ٹیری جونز نے بی بی سی فائیو لائیو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ان کا برطانیہ میں قرآن جلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان کی تقریر ہم آہنگی پر مبنی ہو گی اور اس کا عنوان ہو گا کہ ہم اپنے ملک میں مسلمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

پادری جونسن نے مزید کہا ہے کہ ’ہمیں مسلمانوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہمیں مذہب اور رائے دینے کی آزادی حاصل ہے، مسلمان جو ہمارے ملک کو اپنا ملک بنانا چاہتے ہیں انھیں ہمارے قوانین اور آئین کا احترام کرنا چاہیے۔‘

’ ہمیں ان سے مسئلہ ہے، جو میرے خیال میں آپ سب کو ہے، جو وہ گلیوں میں آ کر برطانیہ، اسرائیل اور امریکہ کے خاتمے کی باتیں کرتے ہیں اور شرعی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے والی تنظیم نے پادری جونز کو دعوت دینے کی مذمت کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ سے درخواست کی ہے کہ پادری جونز کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔

تنظیم کے ڈائریکٹر نکِ لوئلس کا کہنا ہے کہ ’اُن کے دورے کا فائدہ صرف انتہا پسندوں کو ہو گا، جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ انتہا پسند نفرت کی افزائش کرتے ہیں اور نفرت تشدد کو پروانہ چڑھاتی ہے۔‘

اسی بارے میں